نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Islamic لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہلاکو خان کی عبرت ناک موت کا واقعہ

ہلاکو خان کا عبرت ناک انجام ہلاکو خان کو دنیا کا ظالم اور وحشی انسان سمجھا جاتا ہے ۔یہ ظالم صفت انسان اپنے گھوڑے پر غرور و تکبر اور شان سے بیٹھا تھا ۔اس کے پیچھے اس کی فوج کھڑی تھی ۔اس کا گھوڑا سب سے آگے تھا باقی گھوڑے اس کے پیچھے کھڑے تھے ۔ہلاکو خان کے سامنے قیدیوں کی تین قطاریں تھی جو سارے کے سارے مسلمان تھے ۔اج ان کو ہلاکو خان نے قتل کروانا تھا اور ان کو مرتے ہوے دیکھنا چاہتا تھا ۔اس نے ان سب کے سر قلم کرنے کا حکم دے دیا ۔ ہلاکو خان کے حکم کے بعد جلاد نے عمل کرنا شروع کر دیا لوگوں کے سر قلم کرنے لگا پہلی قطار میں پہلے مسلمان کی گردن کٹی پھر دوسرے کی گردن ۔دیکھتے دیکھتے سب کی گردنیں نیچے گرنے لگی ۔پہلی قطار میں ایک مسلمان قیدی بھی تھا جو بہت بوڑھا تھا اور اس کے گھر میں اور کوئی کمانے والا نہ تھا یعنی وہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا جب اس نے دیکھا کے پہلی قطار میں سب کی گردنیں کٹنے لگی ہیں تو وہ موت کے خوف سے دوسری قطار میں چلا گیا ۔ہلاکو خان اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر سب کو مرتے ہوے دیکھ رہا تھا ارو اس کے چہرے پر خوشی کے تاثرات نمایاں تھے ۔اس نے اس مسلمان بوڑھے قیدی کو دوسری قطار میں جا...

شام کے حالات اور امام مہدی کا ظہور

مُلکِ شام کے حالات امام مہدی كا ظہور اور نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیشن گوئیاں  اللّٰه کے آخری رَسُول حضرت محمّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیامت کی نشانیاں کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا کہ اُونٹوں اور بَکریوں کے چَروَاہے جو بَرہَنَہ بَدَن اور ننگے پاؤں ہونگے وہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمارتیں بنوائیں گے اور اس پر فخر کریں گے … "(صحیح مسلم 8) سعودیہ عرب کے شہر ریاض میں آج کے وقت عمارتوں کا یہ مقابلہ شروع ہو گیا ہے جو اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے ۔آج دنیا کی سب سے بڑی عمارت برج خلیفہ ہے جو کہ دبئی میں واقع ہے ۔ جو متحدہ عرب امارات کا شہر ہے ۔تو اس عمارت کے سب سے اونچا ہونے کے عزاز کو ختم کرنے کے لیے شہزادہ ولید بن طلال نے سعودیہ عرب کے شہر جَدَّہ میں اس سے بھی بڑی عمارت بنانے کا اعلان کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ تیزی سے عمارتیں بنتی چلی جا رہی ہے۔اب حالت یہ ہے کے عرب میں قائم عمارتیں دنیا کے دوسرے ممالک کی عمارتوں سے اونچی ہوتی جارہی ہیں ۔ یہ سب لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے آخری رسول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمای...

قیامت کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے ؟

قیامت کا دن جدید سائنس کیا کہتی ہے ! ماہرین فلکیات یہ کہتے ہیں زمین کی طرح کائنات میں اور بہت سارے سیارے پائے جاتے ہیں ۔اس بات کو تو سائنس آج جان سکی ہے مگر یہ بات تو قرآن مجید نے ہمیں چودہ سو سال پہلے بتا دی تھی کہ اس زمین کی طرح اور بہت ساری زمین قائم ہیں ۔ہم قرآن کی کچھ آیات کو پیش کررہے ہیں جس میں زمین و آسمان کے بارے میں فرمایا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے۔ خدا وہی ہے جس نے سات آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور اسی تعداد میں زمینیں بھی۔ (قرآن 65:12) ۔ ہماری اپنی کہکشاں جس کا نام ملکی وے ہے اس کے علاوہ دوسری تمام کہکشائیں بہت تیز رفتار میں ہماری کہکشاں سے دور جا رہی ہیں۔ اس بات کو سپیکٹروسکوپ نامی ایک آلے کے ذریعہ معلوم کیا گیا ۔سپیکڑوسکوپ میں ان دوسری کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جتنی ایک کہکشاں جتنی زیادہ دور ہے اس کی ہماری کہکشاں سے دور جانے کی رفتار بھی اتنی زیادہ ہے۔کہکشاؤں کی یہ رفتار کائنات کی توسیع کی وجہ سے ہے. آج سے پندرہ بیس ارب سال پہلے ایک زبردست دھماکہ ہوا جسے بگ بینگ کہتے ہیں جس کے نتیجہ میں کائنات قائم ہوئی اور اس وقت سے لے کر اب تک یہ کائنات پھیل رہی...

فتنہ دجال اور اس کی حقیقت کیا ہے ؟

فتنہ دجال اور اس کی حقیقت فتنوں کا نازل ہونا قیامت کے قریب ہونے کی نشانی ہے ۔ختم النبین حضرت محمّد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جن جن فتنوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے ان میں سے ایک بڑا فتنہ دجال کا فتنہ بھی ہے ۔فتنہ دجال کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں آج ہم جانیں گے ۔ اگر لفظ دجال کے لغوی اور اصلاحی مفہوم کے حوالے سے دیکھا جائے تو دجال عربی زبان کا لفظ دجل سے نکلا ہے اس سے مراد ہے جھوٹ چھپا لینا ، فریب اور ڈھانپ لینا کے ہیں ۔دجال فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے جس سے مراد ہے بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا اور دھوکہ دینے والا۔دجال حق کو باطل کے سبب سے چھپا لیتا ہے اسی وجہ سے دجال کو کذاب بھی کہا گیا ہے ۔ قرآن پاک میں سورۃ الانعام کی آیت 158 میں کچھ نشانیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان میں سے کچھ نشانیوں دجال کی بھی ہیں ۔ کیونکہ امام ترمذی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مرفاعاً روایت کیا ہے کہ جب تین نشانیاں نازل ہوجائیں گی تو کسی ایسے شخص کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو گا ۔جن تین نشانیوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہیں دجا...

اصحاب ایکہ کون تھے؟ ان پر کیوں عذاب نازل ہوا ؟

اصحاب ایکہ کون تھے اور ان پر عذاب کیوں نازل ہوا اصحاب ایکہ میں ایکہ سے مراد ہے جھاڑی ۔ان لوگوں کا شہر بہت سرسبز تھا اور جنگلوں میں تھا ۔ان لوگوں کی ھدایت کے لئے اللہ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا تا کہ یہ لوگ سیدھے راستے پر چل سکیں ۔عربی زبان میں لفظ ایکہ سے مراد وہ سرسبز جھاڑیاں ہیں جو جنگل میں بہت زیادہ ہرے بھرے درختوں کی وجہ سے اگتی ہیں اور جھاندے کی شکل حاصل کرلیتی ہیں ۔ان باتوں کو جاننے سے مدین کی آبادی کا پتہ آسانی سے معلوم ہوسکتا ہے وہ ایسا کہ یہ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے مغرب شمال میں ایسی جگہ آباد تھا جسے شام کے متصل حجاز کا آخری حصہ کہا جا سکتا ہے اور حجازوالوں کو شام، فلسطین اور مصر تک جانے میں بھی اس کے کھنڈرراہ میں پڑتے تھے اور جو تبوک کے بالمقابل واقع تھا۔ مفسرین کی اس بارے میں مختلف رائے ہیں کہ مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قبیلہ کے دو مختلف نام ہیں یا دو الگ الگ قبیلے کے نام ہیں کچھ مفسرین کی رائے ہے کہ مدین اور اصحاب ایکہ الگ الگ قبیلے ہیں ان کے مطابق مدین ایک شہری قبیلہ تھا اور اصحاب ایکہ ایک دیہاتی قبیلہ تھا جو جنگ...

اسلام میں حسد کسے کہا گیا ہے؟

حسد   حسد کے لغوی معنی جلنا ، کاٹنا اور آرزو کرنا ہیں ۔ اصطلاح میں کسی کی اچھی چیز ،خوبی علم و فضل اور مال و دولت کو دیکھ کر جالنے اور پریشان ہونے کا نام حسد ہے ۔ کسی کے بارے میں یہ آرزو اور تمنا کرنا کہ میرے پاس نہیں تو اس کے پاس بھی یہ مال و دولت، علم وفضل اور عزت و شہرت نہ رہے ، حسد کہلاتا ہے جو کسی کی ترقی ، خوشحالی ، عزت اور دولت پر جلتا اور پریشان ہوتا ہو ، وہ حاسد ہے ۔ ایسا آدی سکون کو کاٹتا ،قطع رحمی کی فصل بوتا کی اور کینہ، بغض ، عداوت اور غیظ وغضب کا بیج بوتا ہے ۔ قرآن و حدیث کی رو سے بھی حسد کا یہی مفہوم واضح کیا گیا ہے ۔ حسد کی بے شمار خسیسں اور مذموم شاخیں ہیں ۔ یہ رذائل اخلاق میں سے انتہائی گھٹیا اور کمینہ عمل ہے ۔ ایسا آدمی ہر کسی کا بدخواہ ہوتا ہے ۔ دوسروں کے بارے میں خیر خواہی کے جذبات نہیں رکھتا ۔ یہ بہت تنگ ظرف ،خلوص سے عاری اور کمینگی کا عصارہ ہوتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں اس فعل کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔ اللہ تعالی نے سورہ الفلق میں حاسد کے حسد اور اس کی شرارتوں سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ ومن شر حاسد إذ حسد میں حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ج...

اسلام میں تکبر کس کو کہا گیا ہے؟

تکبر غرور، گھمنڈ، خود پسندی، دوسروں کے مقابلہ میں خود کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کوحقیر و کم تر سمجھنا، کبر کہلاتا ہے۔ جب کہ کبرونخوت ،فخر و غرور، خود پسندی و حقارت کا اظہار کرنا تکبر کہلاتا ہے۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں مختال، استكبار، جبار اور متکبر کے الفاظ بیان ہوئے ہیں۔ ایک حدیث میں تکبر کے مفہوم کو یوں واضح کیا گیا ہے۔ ایک خوبصورت شخص نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ میں ایک حسین شخص ہوں، حسن مجھے پسند ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ حسن میں مجھے سے کسی کو فوقیت حاصل ہو تو کیا یہ تکبر ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تکبر یہ ہے کہ حق کو قبول نہ کیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔ تکبر کی اسی حثیت کو سب سے زیادہ مہلک اور رذائل اخلاق کی بنیاد کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اسی برائی کا اظہار ہوا اور وہ بھی شیطان نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس بداخلاقی کا ثبوت دیا اور کہا میں آدم سے بہتر ہوں، وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں۔ گویا تکبر شیطانی فعل ہے اور شیطان کی طرح مردود اور قبیح ہے۔ تکبر ہی کی وجہ سے لوگوں نے پیغمبروں کی مخالفت کی۔ اس قسم کے لوگ عام لوگو...

اسلام میں منافق کس کو کہا گیا ہے؟

منافقت منافقت کا لفظ نفق سے نکلا ہے ۔ نفق کے معنی خفیہ سرنگ کے ہوتے ہیں ۔ خفیہ سرنگ کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت دھوکہ دینے کے لئے اس خفیہ راستہ کو استعمال کیا جائے ۔ یہیں سے نفاق اور منافقت کے الفاظ نکلے ہیں جن کا مطلب ہے کہ دھوکہ دینا ، دورخاپن ، دورنگی ، دوغلہ پن ، قول وفعل کا اہم مطابق نہ ہونا اور دل میں کفر چھپا کر زبان سے ایمان ظاہر کرنا ۔ ایسے آدمی کو منافق کہا جاتا ہے ۔ منافق ہی وہ شخص کا ہوتا ہے جو زبان سے تو ایمان کا اظہار کرنا ہو مگر دل سے ایمان کے ساتھ وابستگی نہ رکھتا ہو ۔ ایک آدمی کی بات دوسرے تک پہنچاتا ہو ، ایک شخص کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہو اور اس کے پاس سے جانے کے بعد اس کی ہجو کرتا ہو ۔ یہ سب نفاق کی صورتیں ہیں ۔ ایک دفعہ حضرت عبد الله بن عمر راضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہم لوگ امراء اور حکام کے پاس جاتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں اور جب ان کے یہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں ۔ آپ نے یہ سن کر کہا ۔ ” ہم لوگ عہد رسالت میں اس کا شمار نقاق میں کرتے تھے ۔ قرآن حکیم میں منافقت کی تعریف یوں کی گئی ہے ۔ منافق اپنی زبانوں سے دو باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہ...

حدیث کا تعارف

تعارف حدیث حدیث کے معنی قرآن کریم دین فطرت کی آخری اور مکمل کتاب ہے جو حضرت خاتم النبین ﷺ پر نازل کی گئی اور آپ ﷺ نے کو اس کتاب کا مبلغ اور معلم بنا کر دنیا میں مبعوث کیا گیا ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کتاب الہی کو اول سے آخر تک لوگوں کو سنایا ،لکھوایا، یاد کرایا اور بخوبی سمجھایا اور خود اس کے جملہ احکامات و تعلیمات پرعمل پیرا ہو کر امت کو دکھایا ۔ حضور ﷺ کی حیات طیبہ حقیقت میں قرآن مجید کی قولی اور عملی تفسیر و تشریح ہے ۔ اور آپ ﷺ کے انهی اقوال اور احوال کا نام حدیث ہے ۔ عربی زبان میں لفظ " حدیث وہی مفہوم رکھتا ہے جو ہم اردو میں گفتگو کلام یا بات سے مراد لیتے ہیں چونکہ حضور ﷺ گفتگو اور بات کے ذریعے سے پیام الہی کو لوگوں تک پہنچاتے ،اپنی تقریر اور بیان سے کتاب الله کی شرح کرتے اور خود اس پرمل کر کے اس کو دکھلاتے تھے ۔ اسی طرح جو چیزیں آپ ﷺ کے سامنے ہوتیں اور آپ ﷺ ان کو دیکھ کر یا سن کر خاموش رہتے تو اسے بھی دین کا حصہ سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ اگر وہ امور منشا دین کی منافی ہوتے تو آپ ﷺ یقینا ان کی اصلاح کرتے یا منع فرماتے ۔ اس لیے ان سب کے مجموعے کا نام احادیث قرار پایا ۔ حدیث کی...

آسمانی کتابیں

آسمانی کتابیں   دین اسلام کی شریعت میں پہلے سے ہی بتا دیا گیا ہے کہ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے ۔ رسولوں پر ایمان لانے کا مفہوم یہ ہے کہ انھیں اللہ تعالی کا سچا پیغمبر مانا جائے اور ان کی تعلیمات کو برحق تسلیم کیا جائے ۔ رسولوں پر نازل ہونے والی کتابیں ربانی تعلیمات کا مجموعہ ہوتی ہیں ۔ لہذا رسولوں پر ایمان لانے کے لیے لازم ہے کہ ان پر نازل ہونے والی کتابوں پر بھی ایمان لایا جائے ۔ ایمان والوں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ترجمہ : اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے ۔سورت البقرا آیات 4 آسمانی کتا ہیں تو بہت سی ہیں جن میں سے چار بہت مشہور ہیں : توریت جو حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہوئی۔  زبور جو حضرت داؤد علیہ اسلام پر نازل ہوئی ۔ انجیل جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی ۔  قرآن مجید جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا ۔ ان کے علاوہ حضرت آدم و حضرت ابراھم علیہم السلام اور دوسرے انبیاء کے صحیفے بھی تھے ۔ ان تمام کتابوں میں دین کی بنیادی باتیں مشترک تھیں ۔ جی...

رحمت اللعالمین حضرت محمّد ﷺ

رحمت اللعالمین ﷺ   سید یا آدم صفی اللہ سے لے کر سیدنا عیسی روح اللہ تک تمام انبیا کرام بیشمار معجزات اور عمدہ صفات سے مزین و مرصع تھے۔ان معجزات و صفات سے لاکھوں انسان فیض یاب ہوکر ایک خدا کی پوجا کرنے والے بن گئے مگر ان تمام انبیا کی برگزیدہ جماعت میں کوئی ایسا نہ تھا جس میں تمام انبیا کے معجزات و صفات بیک وقت اور بیک ذات جمع ہوں بلکہ ان سب کے آخر میں تشریف لانے والے حضور ختم الرسل محمد عربی ﷺ ہی وہ زات گرامی ہیں کہ جن میں تمام انبیاء کرام کی جملہ صفات اور معجزات بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں ۔ رسول اکرم کی ان تمام صفات میں صفت رحمت کو خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے ۔ آپ ان کی ساری تعلیمات ، خلوت ، جلوت ،نجی ، گھریلو معاشی ،سیاسی اور معاشرتی زندگی پر اس صفت کا خاص پر تو ہے ۔آپ ﷺ کا جسم اطہر ، آپ ﷺ کی تعلیمات ، آپ ﷺ کا قول وعمل ، آپ کا لایا ہوا دین ، کتاب اور سنت ، نظام شریت ، مساجد ، دینی ادارے ، گفتگو ، اٹھنا بیٹھنا ، چلنا ، رکنا ، کھانا،پینا اور شادی بیاہ اور حضور ﷺ کے تمام متعلقین سراپا رحمت ہیں ۔ رحمت اللعالمين رحمت کے معنی رحم ، نرمی ، شفقت ، ہمدردی ، محبت ، پیار ا...

روزہ کیا ہے؟ روزے کے مسائل ، فضائل اور فوائد

صوم روزه فارسی زبان کا لفظ ہے ۔ قرآن مجید اور عربی زبان میں روزہ کے لئے صوم اور صیام کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ صوم کے لغوی معنی رکنا ، روکنا ،ترک کرنا ، اپنے آپ کو روکے رکھنا ، باز رہنا اور سیدھا ہونا کے ہیں ۔ اصطلاح شریعت میں صبح صادق کی پہلی علامت ظاہر ہونے سے غروب آفتاب تک عبادت کی نیت سے کھانے پینے نفسانی جنسی خواہشات کے ترک کرنے ، ہر قسم کے گناہوں سے رک جانے اور روزہ توڑنے والی چیزوں سے باز رہنے کا نام صوم ( روزہ ) ہے ۔ روزہ کی اہمیت روزه اسلام کا تیسرا رکن ہے ۔ قرآن مجید میں کم و بیش 90 بار روزہ رکھنے کا کم دیا گیا ہے ۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں پر سال بھر میں رمضان المبارک کے روزے فرض قراردیئے ہیں ۔ روزہ تمام انبیاء کرام کی تعلیمات کا لازمی جزو رہا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے ۔ اے ایمان والو تم پر روزے اس طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے ۔ اس آیت کریمہ میں روزہ کی اہمیت ، فرضیت ، تاریخی حیثیت اور مقصد کی وضاحت کی گئی ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام صائم الدھر تھے ۔ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ عیسی علیہ السل...