نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

knowledge لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

یاداشت کیا ہے اور کیسے کام کرتی ہے ؟

یادداشت کیسے کام کرتی ہے؟ انسانی یاداشت کیسے کام کرتی ہے اس پر بہت سالوں سے تحقیق جاری ہے ۔انسانی یاداشت کے بارے میں جاننے کا موضوع ہزاروں سال سے توجہ کا مارکز بنا ہوا ہے ۔یاداشت علمی، ادراکی اور حسی نفسیات کے اندر دلچسپی کا سب سے بڑا مضمون بن گیا ہے۔ اصل میں یادداشت کہتے کس کو ہیں ؟ہمارے دماغ میں یادیں کیسے بنتی ہیں؟یادوں کو دماغ میں کیسے اکٹھا کیا جاتا ہے ؟ آج ہم جب یادوں کے بارے میں وہ باتیں جانیں گے شاید آج سے پہلے آپ نہیں جانتے ہیں ۔ یاداشت کیا ہے ؟ عام طور پر یاداشت ایک بہت پیچیدہ عمل ہے۔ یاداشت میں معلومات کو حاصل کیا جاتا ہے، معلومات کو یاد کیا جاتا ہے اور اسے مزید محفوظ کیا جاتا ہے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ تمام یادیں ایک جیسی نہیں ہوتی ۔یاداشت معلومات حاصل کرنے ، محفوظ کرنے اور یاد کرنے کے علاوہ بعد میں بازیافت کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے ۔یاداشت کے تین بڑے عمل ہیں جو یہ ہیں انکوڈنگ اسٹوریج بازیافت یادیں کیسے بنتی ہیں ؟ نئی یادیں کو بنانے کے لیے ضروری ہے کہ معلومات کو استعمال کے قابل بنا کر تبدیل کیا جائے۔ اس عمل کو ایکوڈنگ کہتے ہیں جب کامیابی کے ساتھ ایک بار مع...

ذلزلے کیوں آتے ہیں ؟

زلزلہ، کیوں اور کیسے آتا ہے ؟ ہمارے ملک میں 2005 میں آنے والا زلزلہ بہت ہی خوفناک تھا جسے کوئی نہیں بھول سکتا ۔جس میں ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے ۔اس سے پہلے 1935 میں کوئٹہ میں بھی رات کے وقت زلزلہ آیا جس میں شہر کی آدھی آبادی موت کے آغوش میں چلی گی ۔ان کے علاوہ چھوٹے زلزلہ ہمارے ہاں اکثر آتے رہتے ہیں ۔ زلزلہ کے بارے میں سن کر لوگوں کے دلوں میں خوف اور خدشات پیدا ہوجاتے ہیں ۔زلزلہ آتے کیوں ہیں اسے ہر کوئی جاننا چاہتا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ زلزلہ آنے سے پہلے اس کی پیش گوئی کی جاسکے ۔زلزلے آنے کی سائنسی وجوہات کے بارے میں آج حقائق بیان کر رہا ہوں ۔ ہماری زمین ھمیشہ حرکت کرتی رہتی ہے ۔زمین اپنے محور کے گرد ایک دن میں اپنا چکر مکمل کرتی ہے ۔زمین سورج کے گرد بھی گھومتی ہے ۔زمین سورج کے گرد اپنا چکر ایک سال میں یعنی تین سو پیسنٹھ سال میں مکمل کرتی ہے ۔اور اس کی وجہ سے زمین پر سردی ، گرمی ، بہار اور خزاں جیسے موسم آتے ہیں ۔زمین کی ان دونوں حرکات کے علاوہ کائنات میں تیسری حرکت بھی ہو رہی جوتی ہے مطلب اس کرے کی اوپری چٹانی پپڑی اندرونی مادّے پر پھیلتا رہتا ہے۔جس پر ہم رہتے ہیں وہ چٹانی...

ہوا کے بگولے کیسے بنتے ہیں؟

چکردار گھومنے والے ہوا کے جن آپ نے کسی صحرا یا پھر کسی میدانی علاقے میں ہوا کو چکر میں تو گھومتے ہوے دیکھا ہو گا ۔اس کے بارے میں لوگوں کی مختلف رائے ییں۔جیسے بزرگ کہتے ہیں ہو سکتا ہے کے یہ ہوا کے چکر میں جنات کے بچے کھیل رہے ہوں۔لیکن پریشان نہ ہوں آج ہم یہ بات کریں گے کے یہ کیسے گھومتی ہے؟ یہ مٹی کے بگولے کیا ہیں اور بنتے کیسے ہیں؟ یہ چھوٹے شیطانی ہوئی مرغولے ہوتے ہیں ان کو انگلش میں ڈسٹ ڈیول کہا جاتا ہے۔ان ڈسٹ ڈیول کی کم سے کم لمبائی آدھا میٹر اور زیادہ دس سے لے کر ایک ہزار میٹر تک کی انچائی تک گھومتے ہیں۔یہ گھومتے ہوے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔یہ چکر دار ہوا بہت ہی منظم انداز میں رہتے ہیں اور لمبا فاصلہ طے کرتے ہیں۔عام طور پر یہ عمودی طرف ہوتے ہیں اور اس میں ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔یہ چھوٹے ہوا کے چکر زیادہ خطرناک نہیں ہوتے لیکن بڑے بگولے کی وجہ سے انسان کو اور اس کی املاک کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس طرح کے بڑے بگولے بھی دوسری طرح کے بگولوں کی طرح ہی عمودی طرف حرکت کرتے ہیں۔ طوفان میں ہونے والی گرج چمک کی وجہ سے بہت سے بڑے طوفانی بگولے پیدا ہوتے ہیں۔جبکہ کے دوسری...

دنیا کے کچھ خطرناک ترین جانور

دنیا کا خطرناک ترین جانور کون سا ہے؟ یوں تو دنیا میں بہت سے جانور ہیں۔ان میں سے کچھ پالتو جانور بھی ہیں جنہیں ہم پالتے ہیں۔کچھ بہت ہی خطرناک ہے۔کیا آپ جانتے ہیں ان جانوروں میں سے سب سے خطرناک کون سا جانور ہے۔کسی کے خیال میں شیر خطرناک ہو گا تو کسی کے خیال میں شارک یا پھر مگرمچھ ؟ تو آج ہم کچھ خطرناک ترین جانوروں کے بارے میں جانتے ہیں اور یہ بھی جانے گئے کے یہ جانور کیوں خطرناک ہیں۔ مچھر مچھر یوں تو بہت ہی چھوٹا ہے مگر اسے دنیا کا خطرناک ترین جاندار مانا جاتا ہے۔مچھر بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔مچھر دماغ کی سوزش کی وجہ بھی بنتے ہیں۔اس کے علاوہ مچھر ڈینگی بخار ، زرد بخار اور ملیریا بخار کا باعث بنتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے مطابق مچھر کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہر سال تقریبا سات لاکھ 25 ہزار افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ہر سال 20 کروڑ افراد ملیریا سے متاثر ہوتے ہیں۔ان 20 کروڑ میں سے 6 لاکھ افراد تو موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ان سب اعداد و شمار کی وجہ سے مچھر کا شمار خطرناک ترین جاندار میں کیا جاتا ہے۔ سانپ سانپ کی بہت ساری اقسام ہوتی ہے۔سانپ بہت ہی خ...

دنیا کے کچھ خطرناک ایئر پورٹ

دنیا کے خطرناک ائیرپورٹ دنیا کے کچھ ایئر پورٹ بہت ہی خطرناک ہیں۔ان پر اترنے کا خیال ہی ہمارے پسینے چھڑا سکتا ہے۔ان خطرناک ایئر پورٹ کی فضائی پٹی پر جہاز کو اتارنا کسی کمزور دل والوں کے بس کی بات نہیں۔اگر آپ کو جہاز میں سفر کرنا اچھا لگتا ہے تو ہو سکتا ہے آپ ان خطرناک ایئر پورٹ کے بارے میں جان کر جہاز کے سفر میں پسندیدگی کم کر دیں۔تو آج میں آپ کو دنیا کے کچھ خطرناک ایئر پورٹ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ان کو کس وجہ سے خطرناک ایئر پورٹ کہا جاتا ہے؟ برہ ائیر پورٹ، اسکاٹ لینڈ یہ ایئر پورٹ چھوٹیوں اور پہاڑ پر تو نہیں ہے لیکن اگر آپ کو یہاں جانے کا شوق ہے تو ہوا کی سمت جاننے کے لیے ونڈ سوک پر نظر جمائے رکھنی ہو گی ۔کیوں کے اس ایئر پورٹ کا رن وے اکثر سمندر میں ڈوبا ہوتا ہے۔اسکاٹ لینڈ میں واقع برہ ایئر پورٹ دنیا کا وہ ایئر پورٹ ہے جہاں پر جہاز کو اترنے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔اسے دنیا کا واحد بیچ ایئر پورٹ بھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ برہ ایئر پورٹ کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ایئر پورٹس میں ہوتا ہے۔ بھوٹان کا ائیرپورٹ کیا آپ جانتے ہیں کے ہمالیہ کی اوسط بلندی 16 ہزار ف...

گرگٹ کیسے اور کیوں اپنا رنگ بدلتا ہے؟

گرگٹ   گرگٹ ایک کمال کا جانور ہے۔اس کا شمار رینگنے والے جانوروں میں ہوتا ہے .گرگٹ کی ایک سو ساٹھ سے زیادہ اقسام ہیں۔جو دنیا کے گرم ممالک میں پائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ گرگٹ صحرا اور پہاڑی علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کے شہروں میں کچھ ویران مقامات پر کبھی کبھی نظر آجاتے ہیں۔گرگٹ ایک عجیب و غریب جانور ہے جس کو بچے بڑے سب ہی شوق سے دیکھتے ہیں۔گرگٹ کا قد 0.6 انچ لے کر 30 انچ تک ہوتا ہے۔یہ گرگٹ کمال کا جانور کئی خصوصیات کا مالک ہوتا ہے۔اگر ہم گرگٹ کی خصوصیات کے بات کریں تو ایک یہ ہے کے گرگٹ کی بہت ساری اقسام کی اپنے جسم سے بھی لمبی زبانیں ہوتی ہیں۔اس کے بعد ایک اور خصوصیات یہ ایک کے ہر گرگٹ کے زبان پر چپکنے والا مادہ ہوتا ہے جو کیڑوں کو پکڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔گرگٹ اپنی زبان کو انتہاہی تیزی سے باہر نکل سکتا ہے۔گرگٹ اپنی زبان ایک سیکنڈ سے بھی کام وقت میں اپنی زبان کو تیزی سے باہر نکال کر کیڑے پکڑ لیتا ہے۔ گرگٹ کی اور خصوصات کی بات کریں تو اس کی آنکھیں اس کو اور منفرد بناتی ہیں۔گرگٹ اپنی دونوں آنکھیوں کو ایک کی وقت دو مختلف سمتوں میں گھما سکتا ہے اور بیک وقت...

پاکستان کو درپیش ابتدائی مشکلات

ابتدائی مشکلات 1۔ریڈ کلف ایوارڈ کی نا انصافیاں 3 جون 1947 ء کے منصوبہ کے تحت طے پایا تھا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو مسلم اور غیرمسلم اکثریتی علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور باقی علاقے ہندوستان کا حصہ بنیں گے ۔ علاقوں کی حد بندی کے لیے ایک کمیشن بنانے اور اس کی ثالثی کو قبول کرنے پر اتفاق رائے ہوا ۔ ایک برطانوی ماہر قانون سر ریڈ کلف کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ۔ سریڈ کلف نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دباو میں آ کر غیر منصفانہ تقسیم کی ۔مسلم اکثریت کے بعض تسلیم شدہ علاقوں کو ایک سازش کے تحت ہندوستان میں شامل کر دیا گیا ۔ آبادی کے مطابق طے پانے والے نقشے اور اس پر کھنچی گئی لکیر کو بدل دیا گیا ۔ اس امر کا اعتراف ریڈ کلف کے پرائیویٹ سیکرٹری نے کیا اور اب تو یہ ایک تاریخی حقیقت مانی جا چکی ہے کہ ناانصافی کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں سے پاکستان کو محروم کر دیا گیا ۔ ضلع گورداسپور کی تین تحصیلیں گورداسپور ، پٹھانکوٹ اور بٹالہ کے علاوہ ضلع فیروز پور کی تحصیل زیرہ اور بعض دوسرے علاقے ہندوستان کو سونپ دیئے گئے ۔ گورداسپور کے علاقوں کو ہندوستان میں شامل کرنے سے ریاست جموں ...

سرائیکی اور بلوچی زبان کا تعارف

بلوچی زبان بلوچی زبان پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کثرت سے بولی جانے والی زبان ہے۔بلوچی زبان فارسی زبان سے زیادہ قدیم زبان ہے۔یہ ایک آزاد اور قائم بالذات زبان ہے۔عرب سیاحوں اور ماہرین لسانیات کے مطابق قدیم باختریہ زبان ژند سے مماثلت رکھتی ہے ۔ بلوچی زبان کا خاندان اس کا آریائی زبانوں کی ایرانی آریائی شاخ سے تعلق ہے روسی زبان کا لب و لہجہ علاقائی لحاظ سے بلوچی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مشرقی بلوچی مغربی بلوچی رخشانی ان میں سے پہلے دو حصے زیادہ قابل ذکر ہیں جو یہاں پیش کئے جارہے ہیں مشرقی بلوچی بلوچستان کے مشرقی علاقوں کوئٹہ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور سندھ کے مغربی ساحل پر آباد مزارعین وغیرہ میں بولی جاتی ہے ان کی زبانوں میں پنجابی ،سرائیکی اور سندھی زبان کا اثر نمایاں ملتا ہے مغربی بلوچی مغربی بلوچی میں فارسی اور پشتو زبان کا اثر پایا جاتا ہے ۔یہ صرف بولنے اور سمجھنے تک محدود ہے۔مغربی بلوچی مکران ،قلات،جھالاوں ، لسبیلہ اور ایران سے ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ افغانستان ،ایران اور روس کے چند علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے ۔ ...

پاکستان کے قیام میں صوبہ پنجاب اور بلوچستان کا کردار

قیام پاکستان کے سلسلے میں صوبہ پنجاب کے کردار کا جائزہ پس منظر قیام پاکستان سے قبل پنجاب آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا ۔ اس میں پاکستان کے دو صوبہ سرحد اور پنجاب اور ہندوستان کے تین صوبے ہریانہ ،ہماچل پردیس اور پنجاب شامل تھے ۔مغلوں کے زوال سے فائدہ اٹھا کہ 1799 ء میں رنجیت سنگھ برسراقتدار آیا ۔ اور سکھ ریاست کے انتشار سے فائدہ اٹھا کر 1849 ء میں انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کر لیا ۔ انگریزوں کو پنجاب کی زرعی پیداوار کپاس میں دلچسپی تھی اس سے ان کے برطانوی کپڑے کے کارخانے چلتے تھے اور یہی کپڑا پنجاب آکر کیا تھا ۔ یہاں سے انگریزوں کو ستے سپاہی ملتے تھے اسی وجہ سے انہوں نے پنجاب کو صنعتی لحاظ سے کمزور رکھا ۔ پنجاب کے رقبہ میں کمی 1901 ء میں انگریزوں نے اپنی انتظامی سہولت کے لئے پنجاب کے چھ مغربی اضلاع کاٹ کر شمال مغربی سرحد کے نام سے نیا صوبہ بنایا ۔ تحریک پاکستان میں دیر سے شمولیت پنجاب میں مسلمانوں کی تعداد 57.5 فیصد تھی مگر اس صوبے میں مسلم لیگ کو دیر سے پذیرائی ملی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پنجاب کے مسائل بنگال اور دوسرے اقلیتی صوبوں سے بالکل مختلف تھے ۔ سرفضل حسین ک...

بجلی خطرناک کیوں ہوتی ہے؟

الیکٹرک کرنٹ کے اثرات   ہم سرکٹ میں بہتی بجلی کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر مندرجہ ذیل تین چیزوں میں سے کوئی چیز پیش آتی ہے تو ، ہم کہتے ہیں کہ بجلی چل رہی ہے۔ حرارتی اثر کا موجود بونا جب بجلی کا بہاؤ دھات کے تار سے بہتا ہے تو وہ اسے گرم کرتا ہے۔ جب تار بہت گرم ہوجاتا ہے تو روشنی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بہت سے ایسے آلات استعمال کرتے ہیں جو بجلی کے کرنٹ کو گرمی میں بدل دیتے ہیں۔ بجلی کا کیمیائی اثر بجلی کا برقی قوت خاص طور پر پگھلا ہوا یا حل کی شکل میں کیمیائی طور پر برقی مادوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ جب حالیہ حل کسی حل میں گزرتا ہے تو ، وہ اس حل کو اپنے اجزاء میں توڑ سکتا ہے۔ اس عمل کو برقی تجزیہ کہتے ہیں۔ بجلی کسی دھات کی چیز کو دوسرے دھات کی پتلی پرت کے ساتھ کوٹ کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس عمل کو الیکٹروپلیٹنگ کہتے ہیں۔ بجلی مقناطیسی اثر بجلی کا بہاؤ بھی دھات کی تار میں مقناطیسی اثر پیدا کرسکتا ہے۔ جب لوہے کے ٹکڑے کے چاروں طرف تار کا ایک کنڈلی بار مقناطیس کی طرح برتاؤ کرتا ہے تب اس سے بجلی کا کرنٹ گزر جاتا ہے۔ ایسے میگنیٹ کو برقی م...

پاکستان میں سیلاب اور آندھیاں کیوں آتی ہیں؟

پاکستان میں سیلاب اور آندھیاں کیوں آتی ہیں نیز ان کے نقصانات سے بچاؤ کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جاسکتی ہے سیلاب کا مفہوم   دریاؤں اور بالوں میں پانی کی سطح کا اتنا زیادہ بلند ہو جانا کہ وہ دریاؤں اور گاوں کی گزر گاہ توڑ کر باہر نکل جائے اور دور دور تک پھیل جائے تو اسے سیلاب کہاجاتا ہے ۔ پس منظر ہمارے ملک کی معیشت زرعی ہے ملک کی 70 فی صد آبادی کازریعہ معاش بھی کاشت کاری ہے ۔صوبہ سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقے کاشت کاری کے بہترین علاقے سمجھے جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے زرئی علاقے میں بارش 20 انچ سالانہ سے بھی کم ہوتی ہے ۔ یہ مقدار زری نقطہ نگاہ سے ناکافی سمجھی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک میں بارشوں کے بارے میں یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کس مہینہ میں کب اور کتنی ہوگی ۔ جن ایام میں کاشت کاری کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس دوران میں بارش سے کافی پانی نہیں ملتا ۔ پانی کی اس کمی کو ہمارے ملک کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ اور اس کے مشرق و مغربی معاونین پورا کرتے ہیں ۔ پنجاب اور سندھ کی زرخیزی کاسبب یہی دریا ہیں لیکن بعض اوقات ان دریاؤں میں پانی کی زیادتی سیلاب کا ...