نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دنیا کے کچھ خطرناک ایئر پورٹ

دنیا کے خطرناک ائیرپورٹ دنیا کے کچھ ایئر پورٹ بہت ہی خطرناک ہیں۔ان پر اترنے کا خیال ہی ہمارے پسینے چھڑا سکتا ہے۔ان خطرناک ایئر پورٹ کی فضائی پٹی پر جہاز کو اتارنا کسی کمزور دل والوں کے بس کی بات نہیں۔اگر آپ کو جہاز میں سفر کرنا اچھا لگتا ہے تو ہو سکتا ہے آپ ان خطرناک ایئر پورٹ کے بارے میں جان کر جہاز کے سفر میں پسندیدگی کم کر دیں۔تو آج میں آپ کو دنیا کے کچھ خطرناک ایئر پورٹ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ان کو کس وجہ سے خطرناک ایئر پورٹ کہا جاتا ہے؟ برہ ائیر پورٹ، اسکاٹ لینڈ یہ ایئر پورٹ چھوٹیوں اور پہاڑ پر تو نہیں ہے لیکن اگر آپ کو یہاں جانے کا شوق ہے تو ہوا کی سمت جاننے کے لیے ونڈ سوک پر نظر جمائے رکھنی ہو گی ۔کیوں کے اس ایئر پورٹ کا رن وے اکثر سمندر میں ڈوبا ہوتا ہے۔اسکاٹ لینڈ میں واقع برہ ایئر پورٹ دنیا کا وہ ایئر پورٹ ہے جہاں پر جہاز کو اترنے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔اسے دنیا کا واحد بیچ ایئر پورٹ بھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ برہ ایئر پورٹ کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ایئر پورٹس میں ہوتا ہے۔ بھوٹان کا ائیرپورٹ کیا آپ جانتے ہیں کے ہمالیہ کی اوسط بلندی 16 ہزار ف...

کائنات کیسے وجود میں آئی؟بگ بینگ تھیوری کیا ہے ؟

بگ بینگ سے کائنات کیسے وجود میں آئی؟ انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے عقل اور سمجھ بوجھ جیسی نعمت حاصل ہے۔اس سوچنے کی صلاحیت نے انسان کو متجس بنایا ہے کے وہ ہر چیز کے بارے میں جان سکے۔انسان برسوں سے اس کوشیش میں لگا ہوا ہے کے اس کائنات کے بارے میں اور اپنے آس پاس کے ماحول کی کھوج لگا سکے اور ان رازوں سے پردہ اٹھا سکے جو آج تک پوشیدہ ہیں۔ان چیزوں کی چاہ نے انسان سے سر توڑ کوشیش کرائی یہاں تک کے آج انسان نہ صرف چاند تک پہنچ گیا بلکہ کروڑوں نوری سالوں کے فاصلے پر واقع کہکشاوں تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے۔ انسان کے دماغ میں شروع سے بہت سوالات جنم لیتے رہے ہیں ان سوالات میں ایک سوال کائنات کی تخلیق کے بارے میں بھی ہے۔انسان نے کوشیش کی کے کائنات کے خفیہ رازوں کی جانا جاسکے۔بہت سے رازوں کو جان لیا گیا ہیں مگر ابھی بھی کچھ حقیقت کی کھوج جاری ہے۔ انسان کی کھوج ہزاروں سال سے جاری ہے اور نئی نئی دریافت ہوتی رہیں۔چار سو سال پہلے یورپ نے سائنس میں انقلاب برپا کیا جس کی وجہ سے انسان کے ہزاروں سال پہلے نظریے کو غلط قرار دیا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس میں بہت سے نئے اصول متعارف کرائے گے۔نت نئے اور...

مرگی کی بیماری کے وجوہات اور علامات کیا ہیں ؟

مرگی: اسباب، علامات   مرگی کے لغوی معنی نیچے گرانے والی بیماری کے ہیں۔اس مرض میں مبتلا آدمی اچانک سے بہوش ہوجاتا ہے اور گر پڑتا ہے۔اسے ہوش نہیں رہتا ہے ہاتھوں اور پاوں میں کھچاو ہوجاتا ہے۔آدمی کبھی کبھی چیخ مار کرگرتا ہے اور کبھی بغیر آواز کے بہوش ہوتا ہے۔بہوشی کے وقت اس کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔اور سانس میں بھی تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔ مرگی کا مرض دوروں کی شکل میں ہوتا ہے اور دورے بار بار آتے ہیں۔مرگی کی بیماری زیادہ تر ٹھنڈے علاقوں میں ہوتی ہے۔پاکستان میں ہر دس ہزار میں سے دس آدمی مرگی کا شکار ہیں۔مرگی پاکستان کے علاوہ ناروے ، سویڈن ، ڈنمارک اور آئس لینڈ وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ مرگی کی وجوہات مغربی طب کے مطابق مرگی کے 32 فیصد کیسز کی وجہ یہ ہیں۔ رسولی صدمہ کوئی چوٹ شراب پینا جراثیم نیند کی کمی دماغ کی لاغری دماغی خشکی خون کی شریان اور ورید کی ساخت میں خرابی اسی مغربی طب کے مطابق مرگی کے 68 فیصد کیسز کی وجہ معلوم نہیں ہے۔جبکہ یونانی طب نے ان 68 فیصد کیسز کے بارے میں بتایا ہے کے ان کے وجہ دماغ کے سبب ہوتی ہے۔اس کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔اگر مرگی دماغ کی وجہ سے ہو...

معدے کی تیزابیت کی وجوہات ، بچاؤ اور علاج

معدے میں تیزابیت کی وجہ کیا اور بچنا کیسے ممکن؟ نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں تیزابیت کا نام بھی آتا ہے۔عام طور پر معدے کی تیزابیت یا ایسیڈیٹی ایک عام سا طبی مسلہ لگتا ہے لیکن جو شخص اس کا سامنا کرتا ہے اس کے لیے یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور ناخوشگوار وقت ثابت ہوتا ہے۔ معدے کی تیزابیت کی وجہ بننے والے معدے کے گیسٹرک گلینڈز ہوتے ہیں۔معدے کے گیسٹرک گلینڈز میں تیزابیت کی زیادہ اضافی مقدر پیدا ہوجاتی ہے جو معدے کی تیزابیت کی وجہ بنتی ہے۔ معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سینے میں جلن ہوتی ہے۔معدے میں السر ہوتا ہے۔معدے میں ورم جیسی اور تکلف کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ علامات معدے کی تیزابیت جن علامات کی شکل میں سامنے آتی ہے وہ یہ ہیں۔ سنے میں جلن معدے اور گلے میں جلن کا احساس منہ کا تلخ ذائقہ کھانے کے بعد بھاری پن قے آنا بدہضمی اگر کسی شخص کو او پر دی گئی علامات ظاہر ہوں تو ممکنہ طور پر وہ معدے کی تیزابیت کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔ معدے کے تیزابیت کی وجوہات اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں ہر طرح کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اسی وجوہات جس سے ہماری صحت پر برا اثر پڑے تو...

گرگٹ کیسے اور کیوں اپنا رنگ بدلتا ہے؟

گرگٹ   گرگٹ ایک کمال کا جانور ہے۔اس کا شمار رینگنے والے جانوروں میں ہوتا ہے .گرگٹ کی ایک سو ساٹھ سے زیادہ اقسام ہیں۔جو دنیا کے گرم ممالک میں پائی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ گرگٹ صحرا اور پہاڑی علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان کے شہروں میں کچھ ویران مقامات پر کبھی کبھی نظر آجاتے ہیں۔گرگٹ ایک عجیب و غریب جانور ہے جس کو بچے بڑے سب ہی شوق سے دیکھتے ہیں۔گرگٹ کا قد 0.6 انچ لے کر 30 انچ تک ہوتا ہے۔یہ گرگٹ کمال کا جانور کئی خصوصیات کا مالک ہوتا ہے۔اگر ہم گرگٹ کی خصوصیات کے بات کریں تو ایک یہ ہے کے گرگٹ کی بہت ساری اقسام کی اپنے جسم سے بھی لمبی زبانیں ہوتی ہیں۔اس کے بعد ایک اور خصوصیات یہ ایک کے ہر گرگٹ کے زبان پر چپکنے والا مادہ ہوتا ہے جو کیڑوں کو پکڑنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔گرگٹ اپنی زبان کو انتہاہی تیزی سے باہر نکل سکتا ہے۔گرگٹ اپنی زبان ایک سیکنڈ سے بھی کام وقت میں اپنی زبان کو تیزی سے باہر نکال کر کیڑے پکڑ لیتا ہے۔ گرگٹ کی اور خصوصات کی بات کریں تو اس کی آنکھیں اس کو اور منفرد بناتی ہیں۔گرگٹ اپنی دونوں آنکھیوں کو ایک کی وقت دو مختلف سمتوں میں گھما سکتا ہے اور بیک وقت...

اسلام میں حسد کسے کہا گیا ہے؟

حسد   حسد کے لغوی معنی جلنا ، کاٹنا اور آرزو کرنا ہیں ۔ اصطلاح میں کسی کی اچھی چیز ،خوبی علم و فضل اور مال و دولت کو دیکھ کر جالنے اور پریشان ہونے کا نام حسد ہے ۔ کسی کے بارے میں یہ آرزو اور تمنا کرنا کہ میرے پاس نہیں تو اس کے پاس بھی یہ مال و دولت، علم وفضل اور عزت و شہرت نہ رہے ، حسد کہلاتا ہے جو کسی کی ترقی ، خوشحالی ، عزت اور دولت پر جلتا اور پریشان ہوتا ہو ، وہ حاسد ہے ۔ ایسا آدی سکون کو کاٹتا ،قطع رحمی کی فصل بوتا کی اور کینہ، بغض ، عداوت اور غیظ وغضب کا بیج بوتا ہے ۔ قرآن و حدیث کی رو سے بھی حسد کا یہی مفہوم واضح کیا گیا ہے ۔ حسد کی بے شمار خسیسں اور مذموم شاخیں ہیں ۔ یہ رذائل اخلاق میں سے انتہائی گھٹیا اور کمینہ عمل ہے ۔ ایسا آدمی ہر کسی کا بدخواہ ہوتا ہے ۔ دوسروں کے بارے میں خیر خواہی کے جذبات نہیں رکھتا ۔ یہ بہت تنگ ظرف ،خلوص سے عاری اور کمینگی کا عصارہ ہوتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں اس فعل کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔ اللہ تعالی نے سورہ الفلق میں حاسد کے حسد اور اس کی شرارتوں سے پناہ مانگنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ ومن شر حاسد إذ حسد میں حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ج...

آسمانی بجلی کیسے بنتی ہے اور کیوں گرتی ہے؟اس سےبچاؤ کیسے ممکن ہے؟

آسمانی بجلی کیسے بنتی ہے اور کیوں گرتی ہے؟ آسمانی بجلی کو ہم آئے دن دیکھتے رہتے ہیں۔آسمانی بجلی قدرت کا عجیب و غریب مظہر ہے جس کو دیکھ کر خوف بھی آتا ہے اور خدا کی تعریف بھی کرتے ہیں۔آسمانی بجلی کے بارے میں کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو شاید آپ نہیں جانتے ہوں۔ان میں سے ایک بات یہ ہے کے آسمانی بجلی کا ایک کڑاکا ہوا میں ہی 8 سے 20 ہزار درجے سینٹی گریڈ حرات پیدا کرتا ہے۔حرات کی اتنی مقدر سورج کی سطح پر پائی جانے والی حرات سے بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ بادلوں میں کیسے بجلی بنتی ہے؟ اونچے بادلوں کو کیومولونمبس بادل کہا جاتا ہے۔ان اونچے بادلوں میں آسمانی بجلی بنتی ہے۔آسمانی بجلی کو جو ہم دیکھتے ہیں وہ دراصل برق سکونی کی ایک مثال ہے۔برق سکونی کی ایک اور مثال پیش کرتا چلوں کے اگر اونی سویٹر یا بالوں سے پلاسٹک کا ایک ٹکڑا رگڑا جائے تو وہ دھاگے اور کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنی جانب کشش کرتا ہے۔تو یہ برق سکونی یا اسٹیٹک الیکٹریسٹی کی ایک مثال ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو اس کے دوران پانی کے قطرے بادل کے اندر بہت سرد ہو برف کے ذرات میں بدل جاتے ہیں اور جب بارش برستی ہے تو بادل کے اوپر والے حصہ پر مثبت چارج...

پاکستان کو درپیش ابتدائی مشکلات

ابتدائی مشکلات 1۔ریڈ کلف ایوارڈ کی نا انصافیاں 3 جون 1947 ء کے منصوبہ کے تحت طے پایا تھا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو مسلم اور غیرمسلم اکثریتی علاقوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور باقی علاقے ہندوستان کا حصہ بنیں گے ۔ علاقوں کی حد بندی کے لیے ایک کمیشن بنانے اور اس کی ثالثی کو قبول کرنے پر اتفاق رائے ہوا ۔ ایک برطانوی ماہر قانون سر ریڈ کلف کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ۔ سریڈ کلف نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دباو میں آ کر غیر منصفانہ تقسیم کی ۔مسلم اکثریت کے بعض تسلیم شدہ علاقوں کو ایک سازش کے تحت ہندوستان میں شامل کر دیا گیا ۔ آبادی کے مطابق طے پانے والے نقشے اور اس پر کھنچی گئی لکیر کو بدل دیا گیا ۔ اس امر کا اعتراف ریڈ کلف کے پرائیویٹ سیکرٹری نے کیا اور اب تو یہ ایک تاریخی حقیقت مانی جا چکی ہے کہ ناانصافی کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں سے پاکستان کو محروم کر دیا گیا ۔ ضلع گورداسپور کی تین تحصیلیں گورداسپور ، پٹھانکوٹ اور بٹالہ کے علاوہ ضلع فیروز پور کی تحصیل زیرہ اور بعض دوسرے علاقے ہندوستان کو سونپ دیئے گئے ۔ گورداسپور کے علاقوں کو ہندوستان میں شامل کرنے سے ریاست جموں ...

اسلام میں تکبر کس کو کہا گیا ہے؟

تکبر غرور، گھمنڈ، خود پسندی، دوسروں کے مقابلہ میں خود کو بڑا سمجھنا اور دوسروں کوحقیر و کم تر سمجھنا، کبر کہلاتا ہے۔ جب کہ کبرونخوت ،فخر و غرور، خود پسندی و حقارت کا اظہار کرنا تکبر کہلاتا ہے۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے قرآن و حدیث میں مختال، استكبار، جبار اور متکبر کے الفاظ بیان ہوئے ہیں۔ ایک حدیث میں تکبر کے مفہوم کو یوں واضح کیا گیا ہے۔ ایک خوبصورت شخص نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ میں ایک حسین شخص ہوں، حسن مجھے پسند ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ حسن میں مجھے سے کسی کو فوقیت حاصل ہو تو کیا یہ تکبر ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تکبر یہ ہے کہ حق کو قبول نہ کیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔ تکبر کی اسی حثیت کو سب سے زیادہ مہلک اور رذائل اخلاق کی بنیاد کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے اسی برائی کا اظہار ہوا اور وہ بھی شیطان نے حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس بداخلاقی کا ثبوت دیا اور کہا میں آدم سے بہتر ہوں، وہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں۔ گویا تکبر شیطانی فعل ہے اور شیطان کی طرح مردود اور قبیح ہے۔ تکبر ہی کی وجہ سے لوگوں نے پیغمبروں کی مخالفت کی۔ اس قسم کے لوگ عام لوگو...

اسلام میں منافق کس کو کہا گیا ہے؟

منافقت منافقت کا لفظ نفق سے نکلا ہے ۔ نفق کے معنی خفیہ سرنگ کے ہوتے ہیں ۔ خفیہ سرنگ کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت دھوکہ دینے کے لئے اس خفیہ راستہ کو استعمال کیا جائے ۔ یہیں سے نفاق اور منافقت کے الفاظ نکلے ہیں جن کا مطلب ہے کہ دھوکہ دینا ، دورخاپن ، دورنگی ، دوغلہ پن ، قول وفعل کا اہم مطابق نہ ہونا اور دل میں کفر چھپا کر زبان سے ایمان ظاہر کرنا ۔ ایسے آدمی کو منافق کہا جاتا ہے ۔ منافق ہی وہ شخص کا ہوتا ہے جو زبان سے تو ایمان کا اظہار کرنا ہو مگر دل سے ایمان کے ساتھ وابستگی نہ رکھتا ہو ۔ ایک آدمی کی بات دوسرے تک پہنچاتا ہو ، ایک شخص کے سامنے اس کی تعریف کرتا ہو اور اس کے پاس سے جانے کے بعد اس کی ہجو کرتا ہو ۔ یہ سب نفاق کی صورتیں ہیں ۔ ایک دفعہ حضرت عبد الله بن عمر راضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ہم لوگ امراء اور حکام کے پاس جاتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں اور جب ان کے یہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ کہتے ہیں ۔ آپ نے یہ سن کر کہا ۔ ” ہم لوگ عہد رسالت میں اس کا شمار نقاق میں کرتے تھے ۔ قرآن حکیم میں منافقت کی تعریف یوں کی گئی ہے ۔ منافق اپنی زبانوں سے دو باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہ...