نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دنیا کے کچھ خطرناک ایئر پورٹ



دنیا کے خطرناک ائیرپورٹ


دنیا کے کچھ ایئر پورٹ بہت ہی خطرناک ہیں۔ان پر اترنے کا خیال ہی ہمارے پسینے چھڑا سکتا ہے۔ان خطرناک ایئر پورٹ کی فضائی پٹی پر جہاز کو اتارنا کسی کمزور دل والوں کے بس کی بات نہیں۔اگر آپ کو جہاز میں سفر کرنا اچھا لگتا ہے تو ہو سکتا ہے آپ ان خطرناک ایئر پورٹ کے بارے میں جان کر جہاز کے سفر میں پسندیدگی کم کر دیں۔تو آج میں آپ کو دنیا کے کچھ خطرناک ایئر پورٹ کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ان کو کس وجہ سے خطرناک ایئر پورٹ کہا جاتا ہے؟

برہ ائیر پورٹ، اسکاٹ لینڈ

یہ ایئر پورٹ چھوٹیوں اور پہاڑ پر تو نہیں ہے لیکن اگر آپ کو یہاں جانے کا شوق ہے تو ہوا کی سمت جاننے کے لیے ونڈ سوک پر نظر جمائے رکھنی ہو گی ۔کیوں کے اس ایئر پورٹ کا رن وے اکثر سمندر میں ڈوبا ہوتا ہے۔اسکاٹ لینڈ میں واقع برہ ایئر پورٹ دنیا کا وہ ایئر پورٹ ہے جہاں پر جہاز کو اترنے کے لیے کئی کئی دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔اسے دنیا کا واحد بیچ ایئر پورٹ بھی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ برہ ایئر پورٹ کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ایئر پورٹس میں ہوتا ہے۔

بھوٹان کا ائیرپورٹ

کیا آپ جانتے ہیں کے ہمالیہ کی اوسط بلندی 16 ہزار فٹ ہے اور یہ ایئر پورٹ ہمالیہ کی چھوٹی پر واقع ہے۔جی ہاں بھوٹان میں واقع یہ ایئر پورٹ ہمالیہ کی چوٹیوں کے بلکل درمیان واقع ہے۔یہ ایئر پورٹ دنیا کا واحد انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے جو سمندر کی سطح سے 7333 فٹ بلندی پر ہے۔اس ایئر پورٹ پر جہاز کو لینڈ کرانے والے پائلٹس کو بہت ہی ماہر اور قابل ترین مانا جاتا ہے کیوں چھوٹی سے غلطی سے بھی جہاز پہاڑوں سے ٹکرا سکتا ہے۔

جوناکو ای یاروسوقین ایئر پورٹ، کیریبیئن

اس ایئر پورٹ کا رن وے بہت ہی چھوٹا ہے ۔اس ایئر پورٹ کا رن وے چار سو میٹر سے بھی کم ہے اور اس کے آگے سمندر ہے۔اگر اس چھوٹے رن وے پر جہاز نہ رکا تو جہاز سمندر میں گرسکتا ہے۔یہ ایئر پورٹ کیریبیئن کے سبا نامی جزیرے میں واقع ہے۔اس ایئر پورٹ کا نام جوناکو ای یاروسوقین ہے۔اس ایئر پورٹ کا رن وے ایک پہاڑی کے کونے میں واقع ہے۔یہاں پر صرف چھوٹے طیارے آس پاس کے جزیروں سے آتے ہیں۔اس ایئر پورٹ کے چھوٹے رن وے پر لینڈ کرنے سے اکثر افراد گھبراتے ہیں۔اسی وجہ سے کچھ لوگ جہاز کی بجائے یہاں کشتی سے آتے ہیں۔

نرساروک، گرین لینڈ

گرین لینڈ کا نرساوک ایئر پورٹ ایک تنگ وادی میں واقع ہے۔اس ایئر پورٹ میں سمندری ہچکوکے اور بہت تیز ہوا عام سی بات ہے۔اس خطرناک ایئر پورٹ پر لینڈنگ اور ٹیک آف بہت ہی مشکل اور پسینے چھڑانے والا کام ہے۔جہاز کو لینڈ کرانا بہت ہی مشکل ہے اور لینڈنگ کرانا کی اجازت صرف دن کے اوقات ہوتی ہے۔نرساروک ایئر پورٹ پر جہاز کو لینڈ کرانے کے لیے پائلٹس کو 90 کے ڈگری پر جہاز کو ٹرن کر کے لینڈ کرانا ہوتا ہے اور اگر ہوا تیز ہو تو لینڈ کرانا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

میڈیرا ایئرپورٹ، پرتگال

پرتگال کے جزیرے میڈیرا میں واقع اس ایئر پورٹ پر لینڈنگ کرانا بہت ہی مشکل کام ہے۔یہاں پر لینڈ کرتے وقت قابل سے قابل پائلٹس بھی گھبرا جاتے ہیں۔یہ ایئر پورٹ اپنے رن وے کے لحاظ سے بہت ہی خطرناک ایئر پورٹ ہے۔اس ایئر پورٹ پر پچھلے 50 سالوں سے جہاز لینڈ کررہے ہیں۔اس ایئر پورٹ کا چھوٹا رن وے ماہر پائلٹس کی مہارت کا امتحان لیتا ہے کیوں کہ اس چھوٹے رن وے کا اختتام سمندر میں ہوتا ہے۔یہ ایئر پورٹ بڑے جہاز کے لیے زیادہ مشکل کا باعث بنتا ہے کیوں کے ایسے جہازوں کو لینڈ کے لیے ایک کلومیٹر سے بھی زیادہ رن وے کی ضرورت ہوتی ہے۔میڈیرا ایئر پورٹ کا چھوٹا رن وے ہموار نہیں ہے بلکہ یہ ڈھلوان کی طرح ہے تو اس چھوٹے اور ڈھلوان جیسے ایئر پورٹ کے رن وے پر لینڈنگ کراتے وقت جہاز کی رفتار کو کنٹرول کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔

تن زنگ ہلیری ایئرپورٹ، نیپال

نیپال میں واقع ہلیری ایئر پورٹ کا نام ایک کوہ پیما کے نام پر رکھا گیا جس نے سب سے پہلے ماونٹ ایورسٹ کو سر کیا۔یہ بہت ہی خطرناک ترین ایئر پورٹ ہے۔یہ ایئر پورٹ سمندر کی سطح سے 2800 میٹر بلندی پر واقع ہے۔اس ایئر پورٹ کا رن وے صرف 5 سو میٹر ہی لمبا ہے اور اس کے اگے ایک گہری کھائی ہے ۔تو اندازہ لگائیں کے اگر کسی پائلٹس نے حاضر دماغی کا مظاہرہ نہ کیا تو کیا ہو گا۔یہ خیال سب کے ہوش اڑا دیتا ہے کے کہیں مسافر سیدھے گہری کھائی میں نہ گر جائیں۔

کارچویل ایئر پورٹ، فرانس

فرانس کا کارچویل ایئر پورٹ برف میں چھپا ہے۔اس کا رن وے نشیب کی طرف ہے تو یہاں جہاز لینڈ کرانا کسی بھول بھلیاں سے کم نہیں ہے۔اس ایئر پورٹ کی ایک اور حیرت انگیز بات ہے کے اس کے رن وے کا خاتمہ ایک موڑ پر ہوتا ہے تو اس موڑ پر اگر طیارے کو نہ موڑا جائے تو جہاز کھائی میں گر سکتا ہے۔کارچویل ایئر پورٹ بہت ہی خطرناک ایئر پورٹ ہے اس لیے یہاں پر جہاز کو لینڈ کرانے کے لیے پائلٹس کو ایک خاص سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے ۔اس خاص سرٹیفکیٹ کے حامل پائلٹس کو ہی اس خطرناک ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت ہوتی ہے۔

کیوٹو ائیرپورٹ، ایکواڈور

اس ایئر پورٹ پر لینڈنگ کرنے کو بہت ہی مشکل چیلنج سمجھا جاتا ہے کیوں کے اس کے رن وے کے آس پاس بہت ساری آبادی ہے۔اس رن وے پر انتہائی تنگ انگل سے لینڈنگ کرانا اس کو اور زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔ یہ ایئر پورٹ دنیا کے متحرک ترین آتش فشانی سلسلوں میں سے ایک ایئر پورٹ ہے جس پر ایک ساتھ پرواز کرتے ہوئے سمندر کی سطح سے 9350 فٹ بلندی پر جہاز اتارنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔یہی وجہ ہے کے اس خطرناک ایئر پورٹ پرکئی حادثے ہوچکے ہیں۔

گلگت ائیرپورٹ، پاکستان

گلگت بلتستان کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا میں جنت نظیر مانا جاتا ہے۔گلگت بلتستان میں واقع گلگت ایئر پورٹ کا شمار دنیا کے خطرناک ایئر پورٹس میں ہوتا ہے یہاں پر اترنا آسان کام نہیں ہے۔گلگت ایئر پورٹ بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔اس کا رن وے مختصر ہے جو ایک ڈھلوان پر واقع ہے۔گلگت ایئر پورٹ کے اس رن وے کی وجہ سے بوئنگ 737 اور چھوٹے جٹ طیاروں کی لینڈنگ کرنا بھی بہت مشکل ہوتی ہے ۔پاکستان کے گلگت ایئر پورٹ کو پی آئی اے کی جانب سے اے ٹی آر 42 طیاروں کو اتارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آئس رن وے ، انٹار کٹیکا

انٹار کٹیکا میں واقع یہ حقیقت میں یہ کوئی ایئر پورٹ نہیں ہے بلکہ یہ ایک رن وے ہے ۔انٹار کٹیکا ایک برفانی براعظم ہے ۔یہاں جہازوں کو اترنے کے لیے تین رن ویز میں ایک رن وے پر آنا پڑتا ہے۔ان رن وے پر بڑے جہازوں کا اترنا ناممکن ہے۔یہاں پر لینڈنگ مشکل ہوتی ہے خاص طور پر گرمیوں میں جب برف پگھلتی ہے تو یہ برف سے بنا رن وے بھی پگھل جاتا ہے۔لیکن سردیوں میں یہ رن وے سخت ہوجاتا ہے مگر پھر بھی پھسلنے کا خطرہ رہتا ہے جس سے جہاز کھائی میں گرسکتا ہے۔

میٹیکین ائیر اسٹریپ، لیسوتھو

براعظم افریقہ کے ملک لیسوتھو میں واقع ایئر پورٹ جس کا نام میٹیکین ایئر اسٹریپ ہے اس کا رن وے صرف 1300 فٹ لمبا ہے ۔خوف زدہ کردینے والی بات یہ ہے کے اس کے رن وے کے اختتام میں کھائی ہے جو دو ہزار فٹ گہری ہے۔تو یہاں پر لینڈ کرانا بہت ہی مشکل کام ہے۔

پرنسز جولیانا انٹرنیشنل ائیرپورٹ، سینٹ مارٹن

یہ ایئر پورٹ کیربییئن کے جزیرے میں واقع ہے۔اس کا مختصر رن وے ساحل پر ختم ہوتا ہے۔تو یہ ایئر پورٹ مسافروں سے زیادہ ساحل پر موجود لوگوں کے خوف ناک ثابت ہوتا ہے۔کیوں کے جب کوئی طیاره نیچے پرواز کرتا ہے تو ساحل پر موجود لوگ اس کی توفانی ہوائوں اور تیز آواز سے گھبرا جاتے ہیں اور خوف سے اپنا دل تھام لیتے ہیں۔



اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان میں پائے جانے والے معدنیات کی تفصیل۔

معدنیات   پاکستان میں مدنی وسائل کی ترقی کیلئے س1975 میں معدنی ترقیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا ۔معدنیات کو دھاتی اور غیر دھاتی معدینات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دھاتی معدنیات میں شامل ہیں  لوہا تانبا کرومائیٹ پاکستان کی غیر دھاتی معدنیات میں شامل ہیں معدنی تیل قدرتی گیس خوردنی نمک چونے کا پتھر سنگ مرمر چپسم ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ معدنی تیل انسان کے لیے معدنی تیل اور اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی معاشی اہمیت صنعتوں میں استعمال ہونے والی تمام معدنیات سے بڑھ چکی ہے ۔مدنی تیل کی اہم مصنوعات میں گیسولین، ڈیزل ،موبل آئل، موم اور کول تار اور مٹی کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے بعد تیل کی تلاش کے کام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوار کا علاقہ معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم خطہ ہے۔ اس علاقے کے معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم سطح ہے اس کے علاقے میں معدنی تیل کے کنوئیں بلکسر ،کھوڑ ،ڈھلیاں ،جویا میر، منوا...

قائد اعظم کے مشہور چودہ نکات

قائد اعظم کے چودہ نکات   نہرو رپورٹ کے رد عمل میں قائد اعظم نے اپنے 14 نکات جاری کئے آئندہ ہندوستان میں ان 14 نکات کو مسلم سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ نہرر پورٹ کو من و عن منظور کر کے ہندو کا غلام بننا چاہتا تھا انہوں نے جولائی 1929 ء میں آل انڈیا مسلم نیشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ مختار انصاری اس کے پہلے صدر بنے یہ پارٹی قیام پاکستان تک کانگرس کی طفیلی اور ضمنی جماعت کی حیثیت سے کام کرتی رہی اس جماعت نے دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم کے چودہ نکات پس منظر شروع میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن 1928 ء کی نہرو رپورٹ نے آپ کو بہت مایوس کیا تو ادھر یہی حال مولانا محمد علی جوہر کا تھا اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں منقسم تھی ۔ ایک جناح لیگ اور دوسری شفیع لیگ ۔ نہرو رپورٹ کے رو عمل میں دونوں بیلیں متحد ہو گئیں اور متحدہ مسلم لیگ کا اجلاس 31 مارچ 1929 ء کو دہلی میں ہوا اس اجلاس میں قائداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ 1 وفاقی آئین کا نفاز قائد اعظم محمّد علی جناح اس نکات کے مطابق ہن...

حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ  حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں ۔آپ کا تعلق حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خاندان میں سے تھا تو یہ اسرائیلی نبی تھے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر 28 سال۔ ہوئی تو اللہ نے انھیں نبوت عطا کی۔ قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بیان کیا ہے۔قرآن پاک میں 6 سورتوں میں آپ علی السلام کا ذکر آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو قرآن نے زوالنون اور صاحب الحوت کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔صاحب الحوت سے مراد مچھلی والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق میں بھیجا گیا ۔یہاں کے لوگ کافر تھے اس قوم کا مرکز نینوی میں تھا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں ھدایت ہکا پیغام دیا اور واحد اللہ کی عبادت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور بتوں کی پوجا کرتے رہے اپنے کفر پر قائم رہے۔پھر انہوں نے یونس علیہ السلام پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام ان کے مخالفانہ رویہ سے مایوس ہو گے اور ان سے ناراض ہو کر تین دن میں عذاب الہی کی بددعا دے دی ۔ پھر وہ دن آنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم کے بغیر اس علاقہ کو۔ چھوڑ کر وہاں سے نکل ...