نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

Healthy لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وائرس کے خلاف لڑنے والا جسم کے مدافعتی نظام کو کیسے مظبوط بنایا جائے؟ مفید غذائیں

مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار غذائیں  کورونا وائرس پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور تیزی سے مزید پھلتا جارہا ہے ۔اس سے محفوظ رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ احتیاط کی جائے اور اس کے زوردار اثر کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنایا جائے ۔کیوں کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کورونا وائرس میں مرنے کی شرح نوجوانوں کی نسبت پکی عمر کے لوگوں میں زیادہ ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کورونا وائرس کا اثر نوجوانوں پر نہیں ہوتا ۔اگر آپ کا مدافعتی نظام کمزور ہے تو کورونا وائرس آپ پر آسانی سے اثرانداز ہوسکتا ہے ۔مضبوط مدافعتی نظام کورونا کے انفیکشن کا اثر کم کرنے میں بہت حد تک مدد کرسکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نزلہ زکام، فلو اور دیگر امراض کی روک تھام بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم احتیاط کے ساتھ ساتھ اپنے مدافعتی نظام پر خاص توجہ دیں ۔مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کچھ قدرتی غذائیں پیش کی جارہی ہیں۔ ترش پھل مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامن سی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ وٹامن سی خون کے سفید خلیات بننے کی شرح بڑھاتا ہے جو انفیکشن میں لڑنے می...

ڈپریشن سے نجات حاصل کرنے کے آسان طریقے

ڈپریشن سے چھٹکارے کے آسان ترین طریقے ڈپریشن اور سٹریس ایک قسم کے زہنی تناو ہیں ۔سٹریس اور ڈپریشن میں منفی خیال بھی شامل ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کے شکار افراد کی تعداد پانچ کروڑ سے زیادہ ہے۔ اگر امریکا کی بات کریں تو وہاں ایک کروڑ اور نوے لاکھ لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہیں ۔ڈپریشن ،سٹریس یا پھر منفی سوچ یا احساس ان تینوں صورتوں میں مبتلا افراد میں زندگی کو اینجوئے کرنے کا لطف ختم ہو جاتا ہے اور انہی کے اپنے پسیندیدہ کاموں میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے ۔ڈپریشن کی علامات کے شروع شروع میں لوگوں میں منفی احساس کم ہوتا ہے ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منفی سوچ یا احساس بڑھتا جاتا ہے ۔یہ منفی احساس اصل میں ایک دلدل کی طرح ہے دیکھنے میں تو یہ ایک جگہ لگتی ہے مگر جب کوئی اس میں پھنس جائے تو اس کے لیے وہاں سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس میں دھنستا چلا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اس منفی احساس کی دلدل میں مکمل طور پر غرق ہوجاتا ہے ۔ ڈپریشن یا اسٹریس بھی ایسا ہی ہے۔ ڈپریشن میں مبتلا افراد کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے پر شروع ...

زیابیطس (شوگر) کی بیماری میں زخم جلدی سے ٹھیک کیوں نہیں ہوتے ؟

ذیابیطس کی بیماری میں زخم آسانی سے کیوں نہیں بھرتے؟  زیابیطس یا شوگر ایک اسی بیماری ہے جس کی وجہ سے جسم کا ہر حصہ اور نظام متاثر ہوجاتا ہے ۔ذیابیطس کی وجہ سے ہونی والی پیچیدگیوں کی وجہ خون کی چھوٹی نالیوں اور بڑی نالیوں سے ہونے والی بیماریاں ہیں۔زیابیطس کی بیماری میں ہاتھوں اور پیروں میں بے حسی ہوجاتی ہے جسے نیوروپیتھی کہتے ہیں ۔نیوروپیتھی میں میں ہاتھوں اور پیروں کو کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر زیابیطس سے متاثرہ مریض کے جوتے میں اگر کوئی چھوٹی سی گیند بھی پڑی ہو اور وہ پورا دن چلتا رہے تو پھر بھی وہ گیند محسوس نہیں کرپاے گا ۔ اسی کی وجہ سے زیابیطس کے مریضوں کو ہر وقت جوتے پہننے کا کہا جاتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کے اگر مریض کے پاوں پر کوئی کانٹا یا کوئی اور چیز لگ جائے تو مریض کے پاوں پر زخم ہوجاتا ہے جس کے بارے میں مریض کو علم بھی نہیں ہوتا ہے ۔گرمی میں مریض کا پاوں گرم ہو جھلس جاتے ہیں اور کالے پڑجاتے ہیں ۔مریض پاوں میں گرمی کو محسوس نہیں کرسکتا ۔اس لیے ضروری ہے کہ پانی کا درجہ حرارت کو تھرمامیٹر کے زریعے معلوم کیا جائے یا اگر کوئی گھر میں زیابیطس کا مریض ہے تو اس...

منہ سے بدبو آنے کی وجوہات اور اسے ختم کرنے کے لیے آسان گھریلو ٹوٹکے

منہ سے بدبو آنے کی وجہ اور اسے ختم کرنے کے طریقے منہ سے بدبو آنا ایک بہت ہی ناپسندیدہ اور ناگوار عمل اور احساس ہے ۔اس عمل سے نہ صرف سامنے والا شخص بلکہ وہ شخص خود بھی بہت شرمندہ ہوتا ہے۔جب کسی کو احساس ہوتا ہے کہ اس کے منہ سے بدبو آرہی ہے تو وہ سب سے پہلے سوچتا ہے کہ آخر اس کے منہ سے بدبو آتی کیوں ہے ؟ منہ سے بدبو آنے کی ایک نہیں بلکہ بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں ۔ڈاکٹرز کے مطابق اگر کسی کے منہ سے مسلسل بدبو آتی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ جراثیم ہوتے ہیں جو منہ کے اندر موجود ہوتے ہیں ۔یہ جراثیم انسان کے منہ کے اندر رہتے ہیں اور ایسی گیس پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے منہ سے بدبو آتی ہے۔ حقیقت میں جب انسان کچھ کھاتا ہے تو منہ میں موجود یہ جراثیم منہ کے اندر موجود اسٹارچ اور شکر کو توڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے منہ سے بدبو آنا شروع ہوجاتی ہے۔ صحت سے وابستہ ماہرین کے مطابق منہ سے بدبو آنا ایک بیماری ہے ۔اس بیماری کو میڈیکل کی فیلڈ میں ہیلیٹوسس کہا جاتا ہے ۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر بہت وقت سے اور مسلسل منہ سے بدبو آرہی ہو تو جلدی ہی دانتوں کے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ اس سے آپ کو کچھ اندا...

فالج کی کچھ خاموش علامات

فالج کی خاموش علامات فالج ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سسے دماغ کو نقصان ہوتا ہے اور فالج سے جسم کا کوئی بھی حصہ مفلوج ہو جاتا ہے یعنی وہ حصہ کام نہیں کرسکتا اگر فالج کا علاج مناسب وقت میں ہوجائے تو اس کے زیادہ اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔فالج کے خطرناک ہونے ک کچھ لوگ اس کی علامات کو عام سمجھتے ہیں اور اس پر زیادہ توجہ نہیں دیتے ہیں جس کی وجہ سے فالج کا علاج بروقت نہیں ہو پاتا اور اس صورت حال میں بہت نقصان اٹھانا پڑا سکتا ہے۔فالج کے دورے کے بعد ہمارے دماغ کے 19 لاکھ خلیات ختم ہوجاتے ہیں ۔اگر ایک گھنٹے تک علاج نہ کرایا جائے تو ہمارے دماغ کی عمر میں ساڑھے تین سال تک کا اضافہ ہوجاتا ہے۔فالج کے مریض کو علاج ملنے میں جتنی بھی تاخیر ہو گئی مریض کے لیے اتنی ہی مشکلات میں اضافہ ہو گا ۔مریض کے لیے بولنے میں مشکلات ، یاداشت میں کمی اور رویے میں تبدیلی جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فالج کی جتنی زیادہ جلدی شناخت کر لی جائے تو اتنا ہی اس کا علاج زیادہ بہتر اور اچھے طریقے سے ہوسکتا ہے اور فالج کی وجہ سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو اتنا ہی کم جاسکتا ہے۔عام طور پر فالج کی دو اقسام ہے ۔ فالج کی ای...

دمہ کیا ہے؟علامات، وجوہات، احتیاط اور علاج

دمہ کیا ہے؟ علامات، علاج اور احتیاط  یہ بیماری سانس میں خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔جب سانس کی نالیوں میں خرابی پیدا ہو جائے یا پھیپڑوں کی نالیا ں باریک ہو جائیں تو اس کی وجہ سے جو مرض لاحق ہوتا ہے اسے دمہ کہا جاتا ہے۔دمہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو تھوڑا تھوڑا کر کے مارتا ہے۔ علامات دمہ کی بہت سی علامات ہیں جس سے اس کی شناخت کی جاتی ہے۔ان میں سے کچھ علامات پیش کی جارہی ہیں۔ کھانسی سانس پھولنا سینے میں درد سانس لیتے وقت سیٹی کی آواز کا آنا نیند میں بے چینی یا پریشانی ہونا تھکاوٹ بچوں کو اگر دودھ پینے میں تکلیف محسوس ہوتو یہ بھی دمہ کی علامت ہے۔ وجوہات وہ عوامل جو دمہ کی وجہ بنتے ہیں وہ یہ ہیں۔ اندرونی و بیرونی الرجی دھول مٹی موسم کی تبدیلی سگریٹ نوشی کرنا ہوائی آلودگی سانس کی نالیوں میں انفیکشن ان چیزوں سے دمہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ علاج و احتیاط دمہ کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے جس سے دمہ کو ختم کیا جائے مگر کچھ ایسی چیزیں ہیں جس کو استعمال کر کے دمہ کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔دمہ کی پہچان اور شناخت جسمانی جانچ اور میڈیکل ٹیسٹ کی مدد سے کی جاتی ہے۔دمہ ...

مرگی کی بیماری کے وجوہات اور علامات کیا ہیں ؟

مرگی: اسباب، علامات   مرگی کے لغوی معنی نیچے گرانے والی بیماری کے ہیں۔اس مرض میں مبتلا آدمی اچانک سے بہوش ہوجاتا ہے اور گر پڑتا ہے۔اسے ہوش نہیں رہتا ہے ہاتھوں اور پاوں میں کھچاو ہوجاتا ہے۔آدمی کبھی کبھی چیخ مار کرگرتا ہے اور کبھی بغیر آواز کے بہوش ہوتا ہے۔بہوشی کے وقت اس کے منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔اور سانس میں بھی تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔ مرگی کا مرض دوروں کی شکل میں ہوتا ہے اور دورے بار بار آتے ہیں۔مرگی کی بیماری زیادہ تر ٹھنڈے علاقوں میں ہوتی ہے۔پاکستان میں ہر دس ہزار میں سے دس آدمی مرگی کا شکار ہیں۔مرگی پاکستان کے علاوہ ناروے ، سویڈن ، ڈنمارک اور آئس لینڈ وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ مرگی کی وجوہات مغربی طب کے مطابق مرگی کے 32 فیصد کیسز کی وجہ یہ ہیں۔ رسولی صدمہ کوئی چوٹ شراب پینا جراثیم نیند کی کمی دماغ کی لاغری دماغی خشکی خون کی شریان اور ورید کی ساخت میں خرابی اسی مغربی طب کے مطابق مرگی کے 68 فیصد کیسز کی وجہ معلوم نہیں ہے۔جبکہ یونانی طب نے ان 68 فیصد کیسز کے بارے میں بتایا ہے کے ان کے وجہ دماغ کے سبب ہوتی ہے۔اس کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔اگر مرگی دماغ کی وجہ سے ہو...

معدے کی تیزابیت کی وجوہات ، بچاؤ اور علاج

معدے میں تیزابیت کی وجہ کیا اور بچنا کیسے ممکن؟ نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں تیزابیت کا نام بھی آتا ہے۔عام طور پر معدے کی تیزابیت یا ایسیڈیٹی ایک عام سا طبی مسلہ لگتا ہے لیکن جو شخص اس کا سامنا کرتا ہے اس کے لیے یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور ناخوشگوار وقت ثابت ہوتا ہے۔ معدے کی تیزابیت کی وجہ بننے والے معدے کے گیسٹرک گلینڈز ہوتے ہیں۔معدے کے گیسٹرک گلینڈز میں تیزابیت کی زیادہ اضافی مقدر پیدا ہوجاتی ہے جو معدے کی تیزابیت کی وجہ بنتی ہے۔ معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سینے میں جلن ہوتی ہے۔معدے میں السر ہوتا ہے۔معدے میں ورم جیسی اور تکلف کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ علامات معدے کی تیزابیت جن علامات کی شکل میں سامنے آتی ہے وہ یہ ہیں۔ سنے میں جلن معدے اور گلے میں جلن کا احساس منہ کا تلخ ذائقہ کھانے کے بعد بھاری پن قے آنا بدہضمی اگر کسی شخص کو او پر دی گئی علامات ظاہر ہوں تو ممکنہ طور پر وہ معدے کی تیزابیت کا سامنا کر رہا ہوتا ہے۔ معدے کے تیزابیت کی وجوہات اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں ہر طرح کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اسی وجوہات جس سے ہماری صحت پر برا اثر پڑے تو...

گردے کی بیماریاں

گردے کی خرابی گردے کی بہت سی خرابیاں ہیں۔چند یہاں پیش کی جارہی ہیں۔ گردے میں پتھری جب پیشاب متمرکز ہوجاتا ہے تو ، بہت سے نمکین جیسے ذرات اس میں شامل ہوجاتے ہیں جیسے کیلشیم آکسیلیٹ ، کیلشیم اور امونیم فاسفیٹ ، یورک ایسڈ وغیرہ تشکیل پاتے ہیں۔ اتنے بڑے کرسٹل پیشاب میں نہیں جاسکتا اور گردے کی پتھری کے نام سے سخت جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر پتھر گردے میں شروع ہوتے ہیں۔ کچھ پیشاب کی مثانے تک بھی جاسکتے ہیں۔ گردے کی پتھری کی بڑی وجوہات عمر غذا جس میں زیادہ سبز سبزیاں وٹامن C اور D شامل ہوں بار بار پیشاب کی نالی میں انفیکشن پانی کا کم استعمال  شراب نوشی شامل ہے گردے میں پتھری کی علامات میں شامل ہیں گردے میں شدید درد پیٹ کے نچلے حصے میں درد الٹی کرنا بار بار پیشاب کرنا خون اور پیپ کے ساتھ بدبو دار آنے والا پیشاب گردے کے تمام پتھروں میں سے تقریبا 90 فی صد پانی کی کافی مقدار پینے سے پیشاب کے نظام میں گزر سکتی ہے اور جسم سے باہر نکل جاتی ہے۔ جراحی کے علاج میں ، متاثرہ جگہ کو کھول دیا جاتا ہے اور پتھر نکال دیئے جاتے...

سانس کی بیماریاں

سانس کی خرابی سانس کی خرابی کی بہت ساری بیماریاں ہیں جو لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اس طرح کی خرابی کی فی صد خاص طور پر زیادہ ہے۔ یہ نہ صرف شہری بلکہ دیہی ماحول میں بھی فضائی آلودگیوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ کچھ اہم بیماریاں یہ ہے برونکائٹس برونکائٹس برونچی یا برونچائول کی سوزش ہے جس کے نتیجے میں ٹیوبوں میں بلغم کے لئے ضرورت سے زیادہ سراو آتا ہے جس کی وجہ سے نلی نما دیواروں میں سوجن ہوتی ہے اور ٹیوبیں تنگ ہوجاتی ہیں۔ یہ وائرس ، بیکٹیریا یا کیمیائی چیزوں کا استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ برونکائٹس کی دو بڑی قسمیں ہیں شدید دائمی شدید برونچائٹس عام طور پر تقریبا دو ہفتوں تک رہتا ہے اور مریضوں کو برونچی میں بغیر کوئی کوئی نقصان ہوے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ دائمی برونکائٹس میں برونچی دائمی سوزش کو پیدا کردیتی ہے۔ یہ عام طور پر تین ماہ سے دو سال تک رہتا ہے۔ برونکائٹس کی علامات ہیں کھانسی ہلکی گھرگھراہٹ بخار سردی لگنے سانس کی قلت خاص طور پر سخت کام کرتے وقت ایمفیسیما ایمفیسیما الیوولی کی دیواروں کی تباہی ہے ۔جس کے نتیجے می...

خوراک کی وجہ سے ہونے والے مسائل

  نیوٹریشن سے متعلق مسائل   نیوٹریشن سے متعلق مسائل کو میل نیوٹریشن کہا جاتا ہے ۔ میل نیوٹریشن کو عام طور پر انڈر نیوٹریشن کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے جو ناکافی خوراک لینے سے خراب ایبزارپشن سے یا نیوٹرینٹس کے جسم سے ضائع ہو جانے سے ہوتی ہے ۔ یہ تمام خوراک زیادہ کھانے یا مخصوص نیوٹرینٹس کی زیادہ مقدار جسم میں لے جانے یعنی اوور نیوٹریشن کا باعث بنتی ہے۔ عام طور پرمیل نیوٹریشن سے متاثر لوگوں کو یا تو خوراک میں مناسب کیلریز نہیں ملتی اور یا انہیں ایسی خوراک ملتی ہے جس میں پروٹین ، وٹامنز یا ٹریس منرلز کی کمی ہوتی ہے ۔ میل نیوٹریشن سے امیون سسٹم کمزور ہو جاتا ہے ۔ جسمانی اور ذہنی صحت خراب ہوتی ہے۔ سوچنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے گروتھ رک جاتی ہے اور بچے کی ڈیولپمنٹ بھی متاثر ہوتی ہے ۔ میل نیوٹریشن کی اہم اقسام پروٹین انرجی میل نیوٹریشن ،منرلز کی کی کی بیماریاں اور زیادہ نیوٹرینٹس لے لینا ہیں ۔ پروٹین انرجی میل نیوٹریشن اس سے مراد جسم میں انرجی اور پروٹینز کی ناکافی دستیابی یا ناکافی ایبزارپشن ہے۔ترقی پز ممالک میں بچوں میں اموات کی بڑی وجہ یہ ہے ۔ پروٹین انرجی ...

کارڈو ویسکولر کی بیماریاں ( دل اور بلڈ ویسلز کی بیماریاں )

  کارڈیو ویسکولر بیماریاں ایسی بیماریاں جن میں دل اور بلڈ ویسلز متاثر ہوں ، کارڈیو ویسکولر بیار یاں کہلاتی ہیں ۔ ان بیماریوں کی وجوہات ، اثر کرنے کا میکانزم اور علاج ملتے جلتے ہیں ۔ زیادہ عمر ، ڈایابیٹیز ، خون میں کم ڈینسٹی والے لپڈز مثلا کولیسٹرول ، اور ٹرائی گلسرائیڈز کا زیادہ ہوجانا، تمباکو نوشی ، ہائی بلڈ پریشر یعنی ہائپر ٹینشن ، موٹاپا اور جسمانی کام کے بغیر طرز زندگی ایسے خطرناک عناصر ہیں جو کارڈیو ویسکولر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔ ایتھر وسکلیروس اور آرٹیرسکلیروس ایتھر و سکلیروس اور آرٹیرسکلیروس آرٹریز کی بیماریاں ہیں اور دل کی پیاریوں کی بھی بنتی ہیں ۔ ایتھر وسکلیروس کو عام الفاظ میں آرٹریز کا تنگ ہوجانا کہتے ہیں ۔ یہ ایک کرانک یعنی زیادہ عرصہ رہنے والی بیماری ہے جس میں آرٹریز میں فیٹی میٹر یل کولیسٹرول یا فائبرن بقع ہوجاتے ہیں ۔ جب یہ حالت شدید ہو جائے تو آرٹریز مناسب طریقے سے مزید کھل اور سکڑ نہیں سکتیں اور ان میں خون کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ کولیسٹرول کا جمع ہونا ایتھر وسکلیروس کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ اس کے نتیجہ میں آرٹریز کے اندر اس کی ...

خون اور اس میں موجود اجزا اور خون کی بیماریاں

خون   خون ایک مخصوص جسمانی فلیٹ ہے جو ایک مائع یعنی بلڈ پلازما اور ریڈ بلڈ سیلز پر مشتمل ہے۔ خون کا وزن ہمارے جسم کے وزن کا 1/12 ہے۔ایک بالغ انسان میں خون کا حجم تقریبا 5 لیٹر ہے۔ صحت مند لوگوں میں خون کے حجم کا 55 فیصد بلڈ پلازما جبکہ 45 فیصد سیلز اور سیلز کی طرح کے اجسام ہوتے ہیں بلڈ پلازمہ بلڈ پلازمہ بنیادی طور پر پانی ہے۔ جس میں پروٹینز ، سالٹس ،میٹابولائٹس اور بے کار معدے حل ہوئے ہوتے ہیں ۔پانی پلازم کا 90 سے 92 فیصد بناتا ہے۔جبکہ 8 سے 10 فیصد حل شدہ مادے ہیں ۔وزن کے لحاظ سے سالٹس پلازما کا 0.9 فیصد ہوتے ہیں۔سوڈیم کلورائیڈ اور بائی کاربونیٹ کے ثالٹس کا فی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کیلشیم ،میگنیشیم ،پوٹاشیم اور زنک کے سالٹس قلیل مقدار میں ہوتے ہیں۔ کسی بھی سالٹس کی کنسٹریشن میں تبدیلی آنے سے خون کی pH میں تبدیلی آسکتی ہے ۔یاد رہے خون کی نارمل پی ایچ 7.4 ہوتی ہے ۔پلازما میں موجود اہم پروٹیز اینٹی باڈیز، خون جمانے والی فائبرینوجن اور خون میں پانی کا توازن قائم رکھنے والی ایلبیومن ہیں۔پلازمہ میں ڈائجسٹ خوراک، نائٹرو جینس بے کار مادے اور ہارمونز بھی موجود ہوتے ہیں ۔رییسپری...