نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پیٹرول زمین میں کہاں سے آیا؟ پٹرول کو زمین سے کیسے نکالا جاتا ہے؟



پٹرول زمین میں کیسے آیا اور کیسے باہر نکالاجاتا ہے؟



پیٹرول زمین کے نیچے لاکھوں سال پہلے دفن مردہ پودوں اور جانوروں کی کمپوزیشن سے بنتا ہے۔بھی کمپوزیشن ایک ایسا عمل ہے جس میں اگر کوئی مرتا ہے اور وہ زمین میں دفن ہو جاتا ہے تو اس کا جسم گل سڑ جاتا ہے ۔یہ مانا جاتا ہے کہ سمندر میں موجود زندہ پودے اور جانور لاکھوں سال پہلے مر گئے ان کے جسم ڈوب کر مٹی اور ریت کے نیچے دفن ہوگئے بہت زیادہ پریشر، ٹمپریچر ، بکٹیریا کے اثر کی وجہ اور ہوا کی عدم موجودگی میں ڈی کمپوزیشن کا عمل ہوا ۔مطلب ان کے جسم گلنے سڑنے لگے۔ڈی کمپوزیشن کے عمل کو مکمل ہونے میں لاکھوں سال لگتے ہیں تو جو پودے اور جانور کی باقیات زمین میں دفن تھے وہ گہرے کروڈ آئل میں بدل گئے 
پیٹرول ہلکا اور پانی میں آن سولیبل ہونے کی وجہ سے یہ پانی کی سطح پر تیرتا ہے ۔(ان سو لیبل کا مطلب ہوتا ہے حل نہ ہونا ) پیٹرول کے اوپر پائے جانے والی گیسی پروڈکٹس قدرتی گیس کے طور پر جانی جاتی ہے 
قشرِارض میں جہاں آئل پایا جاتا ہے وہاں کنویں کھود کر پیٹرولیم حاصل کیا جاتا ہے ۔جب چٹانوں میں سے کنواں کھودا جاتا ہے تو سب سے پہلے بہت زیادہ پریشر کے ساتھ قدرتی گیس نکلتی ہے بعض اوقات گیس کے پریشر کی وجہ سے کروڈ آیل بھی خود بخود نکل آتا ہے جب گیس کا پریشر کم ہوجاتا ہے تو آئل کو پمپ کر کے باہر نکالا جاتا ہے 
کروڈ آئل کو ریفائنریز میں صاف کیا جاتا ہے .ریفائننگ پروسیس میں کروڈ آئل کے مکسچر کو کئی مفید پروڈکٹس میں علیحدہ علیحدہ کرکے حاصل کیا جاتا ہے جو فریکشنل ڈسٹیلیشن کہلاتا ہے۔فنکشنل ڈیسٹینیشن کا اصول پروڈکٹس میں کمپاؤنڈ کے بوائلنگ پوائنٹ کے فرق کے لحاظ سے علیحدگی پر مبنی ہے ۔کم بوائلنگ پوائنٹ رکھنے کے لئے پروڈکٹس پہلے بوائل ہو کر الگ ہو جاتے ہیں۔ہر پروڈکٹ کے بخارات الگ الگ جمع کیا جاتا ہے پھر کنڈنس کیا جاتا ہے یہ پرست اس وقت تک جاری رہتا ہے حتیٰ کہ فالتو مواد بچ جاتا ہے ۔کنڈنس کا مطلب ہوتا ہے کہ فریکشنز یعنی پروڈکٹ گاڑھا ہو جائے  
پٹرول کی اہم فریکشنز 
ہر فریکشن ایک سنگل کمپاؤنڈ نہیں ہوتی بلکہ ہر ایک مختلف ہائیڈروکاربنز کمپاؤنڈز کا مکسچر ہوتا ہے 
یہاں پر پیٹرولیم کی مختلف فریکشنز بیان کروں گا 

پیٹرولیم گیس 

اس کی بورڈ لینگویج 25 سیلسیس تک ہوتی ہے ۔یہ ایل پی جی کی شکل میں بطور فیول کاربن بلیک ٹائر انڈسٹری کی ضرورت اور ہائیڈروجن گیس کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے 

پیٹرولیم ایتھر 

اس کی بوائلنگ رینج 30 سے لے کر 80 سیلسیس تک ہوتی ہے ۔یہ لیبارٹری سولوینٹ اور ڈرائی کلینگ کے مقاصد میں استعمال ہوتا ہے 

گیسولین یا پیٹرول

اس کی بولنگ رینج 80 سے لے کے کر 170 سیلسیس تک ہوتی ہے ۔یہ موٹر سائیکل، موٹر کار اور دوسری گاڑیوں میں فیول کے طور پر استعمال ہوتا ہے یہ کیروسین آئل کی نسبت جلدی آگ پکڑتا ہے ۔یہ ڈرائی کلینگ میں بھی استعمال ہوتا ہے 

کیروسین آئل 

اس کی بوائلنگ رینج 170 سے لے کے 250 سیلسیس تک ہوتی ہے۔یہ گھر یلو فیول کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس کی خالص قسم جیٹ فیول کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔

ڈیزل آئل 

اس کی بوئنگ رینج 250 سے لیکر 350 سیلسیس تک ہوتی ہے۔ یہ بسوں، ٹرکوں ، ریلوے انجنوں ، ٹیوب ویل کے انجنوں اور دوسری بھاری گاڑیوں میں فیول کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔

فیول آئل 

اس کی بوائلنگ رینج 350 سے لیکر 400 سیلسیس تک ہوتی ہے ۔یہ بحری جہازوں، انڈسٹریز میں بوائیلرز اور فرنسز کو گرم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے 
ریزیڈیول آئل جو اس ٹمپریچر پر ویپورائز نہیں ہوتا اسے جمع کر لیا جاتا ہے اور مزید فریکشنل ڈسٹیلیشن کے لیے 400 سیلسیس سے زائد ٹمپریچر پرگرم کیا جاتا ہے 
فیول آئل کی چار پریکٹشنرز درج ذیل ہیں 
لبریکنٹس | پیرافین ویکس |اسفالٹ  |پیٹرولیم کوک 

سردیوں میں فروخت ہونے والے ڈیزل فیول کا ہائیڈروکاربنز کا مکسچر گرمیوں میں فروخت ہونے والے مکسچر سے مختلف ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کے ڈیزل 0 ڈگری سیلسیس سے ذرا نیچے ویزلین کی طرح جم جاتا ہے اور فیول کے طور پر کام نہیں کرے گا۔اس سے بچنے کے لیے ہلکی فریکشنز شامل کی جاتی ہیں۔

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان میں پائے جانے والے معدنیات کی تفصیل۔

معدنیات   پاکستان میں مدنی وسائل کی ترقی کیلئے س1975 میں معدنی ترقیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا ۔معدنیات کو دھاتی اور غیر دھاتی معدینات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دھاتی معدنیات میں شامل ہیں  لوہا تانبا کرومائیٹ پاکستان کی غیر دھاتی معدنیات میں شامل ہیں معدنی تیل قدرتی گیس خوردنی نمک چونے کا پتھر سنگ مرمر چپسم ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ معدنی تیل انسان کے لیے معدنی تیل اور اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی معاشی اہمیت صنعتوں میں استعمال ہونے والی تمام معدنیات سے بڑھ چکی ہے ۔مدنی تیل کی اہم مصنوعات میں گیسولین، ڈیزل ،موبل آئل، موم اور کول تار اور مٹی کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے بعد تیل کی تلاش کے کام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوار کا علاقہ معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم خطہ ہے۔ اس علاقے کے معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم سطح ہے اس کے علاقے میں معدنی تیل کے کنوئیں بلکسر ،کھوڑ ،ڈھلیاں ،جویا میر، منوا...

قائد اعظم کے مشہور چودہ نکات

قائد اعظم کے چودہ نکات   نہرو رپورٹ کے رد عمل میں قائد اعظم نے اپنے 14 نکات جاری کئے آئندہ ہندوستان میں ان 14 نکات کو مسلم سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ نہرر پورٹ کو من و عن منظور کر کے ہندو کا غلام بننا چاہتا تھا انہوں نے جولائی 1929 ء میں آل انڈیا مسلم نیشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ مختار انصاری اس کے پہلے صدر بنے یہ پارٹی قیام پاکستان تک کانگرس کی طفیلی اور ضمنی جماعت کی حیثیت سے کام کرتی رہی اس جماعت نے دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم کے چودہ نکات پس منظر شروع میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن 1928 ء کی نہرو رپورٹ نے آپ کو بہت مایوس کیا تو ادھر یہی حال مولانا محمد علی جوہر کا تھا اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں منقسم تھی ۔ ایک جناح لیگ اور دوسری شفیع لیگ ۔ نہرو رپورٹ کے رو عمل میں دونوں بیلیں متحد ہو گئیں اور متحدہ مسلم لیگ کا اجلاس 31 مارچ 1929 ء کو دہلی میں ہوا اس اجلاس میں قائداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ 1 وفاقی آئین کا نفاز قائد اعظم محمّد علی جناح اس نکات کے مطابق ہن...

حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ  حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں ۔آپ کا تعلق حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خاندان میں سے تھا تو یہ اسرائیلی نبی تھے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر 28 سال۔ ہوئی تو اللہ نے انھیں نبوت عطا کی۔ قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بیان کیا ہے۔قرآن پاک میں 6 سورتوں میں آپ علی السلام کا ذکر آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو قرآن نے زوالنون اور صاحب الحوت کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔صاحب الحوت سے مراد مچھلی والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق میں بھیجا گیا ۔یہاں کے لوگ کافر تھے اس قوم کا مرکز نینوی میں تھا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں ھدایت ہکا پیغام دیا اور واحد اللہ کی عبادت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور بتوں کی پوجا کرتے رہے اپنے کفر پر قائم رہے۔پھر انہوں نے یونس علیہ السلام پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام ان کے مخالفانہ رویہ سے مایوس ہو گے اور ان سے ناراض ہو کر تین دن میں عذاب الہی کی بددعا دے دی ۔ پھر وہ دن آنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم کے بغیر اس علاقہ کو۔ چھوڑ کر وہاں سے نکل ...