نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پاکستان میں پائے جانے والے معدنیات کی تفصیل۔


معدنیات 



پاکستان میں مدنی وسائل کی ترقی کیلئے س1975 میں معدنی ترقیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا ۔معدنیات کو دھاتی اور غیر دھاتی معدینات میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں دھاتی معدنیات میں شامل ہیں 
  • لوہا
  • تانبا
  • کرومائیٹ

پاکستان کی غیر دھاتی معدنیات میں شامل ہیں
  • معدنی تیل
  • قدرتی گیس
  • خوردنی نمک
  • چونے کا پتھر
  • سنگ مرمر
  • چپسم
ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

معدنی تیل

انسان کے لیے معدنی تیل اور اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی معاشی اہمیت صنعتوں میں استعمال ہونے والی تمام معدنیات سے بڑھ چکی ہے ۔مدنی تیل کی اہم مصنوعات میں گیسولین، ڈیزل ،موبل آئل، موم اور کول تار اور مٹی کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے بعد تیل کی تلاش کے کام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوار کا علاقہ معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم خطہ ہے۔ اس علاقے کے معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم سطح ہے اس کے علاقے میں معدنی تیل کے کنوئیں بلکسر ،کھوڑ ،ڈھلیاں ،جویا میر، منوال، تت کوٹ ،سارنگ ،آدھی اور قاضیاں میں واقع ہیں ۔زیریں سندھ کے معدنی تیل کے اہم پیداواری علاقے کنار، ٹنڈو الله یار اور زم ذمہ ہیں ۔ان ذخائر سے ملکی تیل کی ضروریات پوری ہوتی ہے ۔


تانبا

پرانے زمانے میں تانبے سے صرف سکے اور برتن بنائے جاتے تھے۔ اب تانبا بجلی کی اشیاء خصوصا تار وغیرہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ضلع چاغی قلات ، سینڈک ، ژوب اور بعض دیگر مقامات پر دریافت ہونے والے تانبے کے ذخائر بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی تانبے کے ذخائر پائے جاتے ہیں ۔صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے دیر، چترال اور ہزارہ میں تانبے کے ذخائر پائے جاتے ہیں ۔

قدرتی گیس

1952 میں پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے سوئی کے مقام پر قدرتی گیس دریافت ہوئی۔ قدرتی گیس کے اس ذخیرے کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے کیا جاتا ہے۔ قدرتی گیس توانائی کا ایک سستا ذریعہ ہے۔ یہ گیس نہ صرف گھریلو بلکہ صنعتی ضروریات کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت قدرتی گیس پائپ لائن کے ذریعے ملک کے تقریبا تمام بڑے شہروں تک پہنچائی گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں ڈھوڈک، پیرکوہ ، ڈھلیاں اور میال میں قدرتی گیس کے ذخائر ہیں ۔بلوچستان اچ اورزن گیس کے ذخائر ہیں اور صوبہ سندھ میں خیرپور، مزرانی، ساری ہنڈی، کندھ کوٹ اور سارنگ میں بھی اس کے زخائر پائے جاتے ہیں

کوئلہ

کوئلے کا شمار توانائی کے اہم اور قدیم زرائع میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں کوئلہ تھرمل بجلی پیدا کرنے، اینٹیں پکانے اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پنجاب میں کوہستان نمک کے علاقے میں زیادہ تر کوئلہ ڈنڈوت ، پڈھ اور مکڑوال کے مقامات سے نکالا جاتا ہے ۔صوبہ سندھ میں کوئلے کی کانیں تھر، سارنگ اور لاکھڑا میں واقع ہیں ۔صوبہ خیبرپختونخوا میں صرف ہنگو میں کوئلہ کے ذخائر ہیں ۔جبکہ صوبہ بلوچستان میں خوست، شارگ ، ڈیگاری ،شیریں آب ، مچھ ، بولان اور ہرنائی میں کوئلے کی کان کنی ہورہی ہے ۔

خام لوہا

پاکستان میں دریافت شدہ لوہے کے ذخائر کا اندازہ 430 ملین ٹن سے زیادہ ہے۔ ملک میں خام لوہے کی پیداوار 1957 میں شروع ہوئی پاکستان کے کئی مقامات سے خام لوہے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں ۔جن میں کالاباغ، ڈومل نسار، لنگڑیال اور چلغازی کے علاقے خام لوہے کی پیداوار کے لئے اہم ہیں ۔

چٹانی نمک

پاکستان میں چٹانیں نمک کے سو ملین ٹن سے زیادہ ذخائر ہیں جو کھانے کے علاوہ کیمیائی صنعت میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں چٹانی نمک کے وسیع ذخائر کوہستان نمک میں کھیوڑہ کے مقام پر موجود ہیں ۔اس کے علاوہ کالاباغ، واڑ چھا اور بہادر خیل میں بھی نمک کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔صوبہ بلوچستان میں لسبیلہ اور مکران کے ساحل کے قریب سے جبکہ ماڑی پور سے بھی نمک حاصل کیا جاتا ہے


چونے کا پتھر

چونے کا پتھر ایک کارآمد معدن ہے۔یہ شیشہ سازی ،صابن بنانے ،کاغذ سازی ،سیمنٹ سازی، فولاد سازی ،بلیچنگ پاؤڈر کی تیاری، عمارتوں کو سفیدی کرنے، رنگسازی ،کھانے والے پان ،لائم اور سوڈا ایش کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے ۔اس کے ذخائر دادوخیل، روہڑی ، حیدرآباد ،سبی ، ڈیرہ غازی خان، کوہاٹ ،نوشہرہ اور خضدار میں پائے جاتے ہیں ۔

کرومائیٹ

کرومائیٹ ایک اہم دھات ہے۔ جو زیادہ تر فولاد سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے پاکستان میں کرومائیٹ کے 25 سے زیادہ بڑے ذخائر دریافت کیے جاچکے ہیں ۔کرمائٹ مختلف ممالک کو برآمد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی سٹیل مل میں بھی کرومائٹ استعمال ہوتی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں کرومائیٹ کے ذخائر مسلم باغ ، چاغی اور خاران کے علاقوں میں واقع ہے اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا میں اس کے ذخائر مالاکنڈ اور مہمند ایجنسی میں بھی دریافت ہوئے ہیں۔

سنگ مرمر

سنگ مرمر عمارتوں کے فرشوں اور دیواروں پر استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ مختلف اقسام اور رنگوں میں پایا جاتا ہے ۔سنگ مرمر کے ذخائر مردان ، سوات ، ہزارہ، گلگت اور اٹک وغیرہ میں موجود ہیں ۔


چپسم

پاکستان میں چپسم کے وسیع ذخائر موجود ہے۔ جس کا اندازہ 350 ملین ٹن سے زائد ہے۔ چپسم فاسفیٹ کھاد کی تیاری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ سیمنٹ کے صنعت، کاغذ سازی ،پلاسٹر آف پیرس ، سلفیورک ایسڈ ، رنگ و روغن کی صنعت اور ربڑ کی صنعت میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔پاکستان میں کھیوڑہ ، دادوخیل، قائدہ آباد، روہڑی، کوہاٹ ،ڈیرہ غازی ،لورالائی اور سبی وغیرہ میں پایا جاتا ہے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

قائد اعظم کے مشہور چودہ نکات

قائد اعظم کے چودہ نکات   نہرو رپورٹ کے رد عمل میں قائد اعظم نے اپنے 14 نکات جاری کئے آئندہ ہندوستان میں ان 14 نکات کو مسلم سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ نہرر پورٹ کو من و عن منظور کر کے ہندو کا غلام بننا چاہتا تھا انہوں نے جولائی 1929 ء میں آل انڈیا مسلم نیشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ مختار انصاری اس کے پہلے صدر بنے یہ پارٹی قیام پاکستان تک کانگرس کی طفیلی اور ضمنی جماعت کی حیثیت سے کام کرتی رہی اس جماعت نے دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم کے چودہ نکات پس منظر شروع میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن 1928 ء کی نہرو رپورٹ نے آپ کو بہت مایوس کیا تو ادھر یہی حال مولانا محمد علی جوہر کا تھا اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں منقسم تھی ۔ ایک جناح لیگ اور دوسری شفیع لیگ ۔ نہرو رپورٹ کے رو عمل میں دونوں بیلیں متحد ہو گئیں اور متحدہ مسلم لیگ کا اجلاس 31 مارچ 1929 ء کو دہلی میں ہوا اس اجلاس میں قائداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ 1 وفاقی آئین کا نفاز قائد اعظم محمّد علی جناح اس نکات کے مطابق ہن...

حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ  حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں ۔آپ کا تعلق حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خاندان میں سے تھا تو یہ اسرائیلی نبی تھے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر 28 سال۔ ہوئی تو اللہ نے انھیں نبوت عطا کی۔ قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بیان کیا ہے۔قرآن پاک میں 6 سورتوں میں آپ علی السلام کا ذکر آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو قرآن نے زوالنون اور صاحب الحوت کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔صاحب الحوت سے مراد مچھلی والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق میں بھیجا گیا ۔یہاں کے لوگ کافر تھے اس قوم کا مرکز نینوی میں تھا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں ھدایت ہکا پیغام دیا اور واحد اللہ کی عبادت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور بتوں کی پوجا کرتے رہے اپنے کفر پر قائم رہے۔پھر انہوں نے یونس علیہ السلام پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام ان کے مخالفانہ رویہ سے مایوس ہو گے اور ان سے ناراض ہو کر تین دن میں عذاب الہی کی بددعا دے دی ۔ پھر وہ دن آنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم کے بغیر اس علاقہ کو۔ چھوڑ کر وہاں سے نکل ...