نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بھارت کی کچھ عجیب و غریب مذہبی رسومات



بھارت کی عجیب و غریب روایات


بھارت میں دنیا کی تمام اقوام آباد ہیں۔بھارت بڑا ملک ہے جس کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہیں۔جس پر بھارت کو ناز ہے مگر ان کی کچھ رسومات ایسی بھی ہیں جو ان کے لیے شرماندگی کا باعث بنتی ہیں۔یہ چاہتے ہوے بھی ان سے اپنا دامن نہیں چھوڑا سکتے۔

شائینگ انڈیا کی مثالیں دینے والے بھارتوں کی اس بات میں یہ عجیب رسومات حائل هو جاتی ہیں اور ان کے نظریہ کی نفی کرتی ہیں

کچھ رسومات پیش کی جارہی ہیں۔

آگ پر چلنے کی روایت


بھارت کے جنوبی حصہ میں ایک فیسٹیول منایا جاتا ہے جس کا نام ٹھیمیٹی ہے۔اس فیسٹیول میں لوگ اپنی مذہب دیوی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خالی پاؤں آگ پر چلتے ہیں۔اس رسم کو کرنے کے بعد لوگ زخمی ہوجاتے ہیں اور علاج کرواتے ہیں مگر کچھ معذور بھی ہو جاتے ہیں۔اس رسم میں لوگ آگ پر بہت آرام آرام سے چلتے ہیں جیسے ٹہل قدمی ہو۔

کٹوں کی لڑائی


یس کھیل کو انڈیا کا سب سی زیادہ کھیل مانا جاتا ہے۔یس کھیل میں بچے کے ساتھ بوڑھے اور جوان بھی حصہ لیتے ہیں۔اس کھیل میں لوگوں کا خوب جوش ہوتا ہے۔جنوبی بھارت میں کاشتکاڑی کا میلہ لگایا جاتا ہے۔یس میلہ میں ہی کٹوں کی لڑائی لوگوں کے ساتھ کرائی جاتی ہے جو کسی رسی کے بغیر ہوتی ہے۔۔یہ خونی کھیل ہے جس سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں۔ان کے مذہبی نظرے کے مطابق جو کٹا اس مقابلے میں شامل ہے بعد میں اس کو مارا نہیں جاتا۔

بالوں کی فروخت


بھارت کے مندروں میں لوگ اپنے بال منڈواتے ہیں جس کو مندر کی منتضمین فروخت کر دیتے ہیں۔اور بہت آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ہندو نظریہ میں جو فیسٹیول منائے جاتے ہیں اس دن بال منڈوئے جاتے ہیں۔انڈیا میں بالوں کی فروخت کا کاروبار وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے اور دیگر ملکوں کو فروخت کیے جاتے ہیں۔ایک کلو بال 

کی قیمت 250 ڈالر تک ہے۔

بیواﺅں کو زندہ جلانا


اس رسم پر بھارت کی حکومت نے پابندی لگا رکھی ہے اور اس رسم کو سرانجام دینے والے کو سزا بھی دی جاتی ہے۔یہ رسم انڈیا کے کچھ علاقوں میں کی جاتی ہے۔جب شوہر کی وفات ہو جاتی ہے تو اس کی بیوی کو بھی اس کے ساتھ جلا دیا جاتا ہے۔اس رسم کو ستی کہا جاتا ہے۔

بچوں کو بلندی سے نیچے پھنکنا


ہندو نظرے کے مطابق اس رسم کو نبھانے سے شادی شدہ حضرات کی زندگی خوشوں سے جاتی ہے اور مصیبت ان سے دور رہتی ہے۔ہر سال دسمبر میں یہ رسم کی جاتی ہے۔کرناٹک کےمندر میں ایک سو سے زیادہ بچوں کو نیچے پھنکا جاتا ہے جس کو پکڑنے کے لیے لوگوں کا ایک گروپ نیچے کھڑا ہوتا ہے جن کے ہاتھ میں جال ہوتا ہے۔جن حضرات کو زیادہ بچوں کی خواہش ہوتی وہ اس انوکھی رسم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

مرغیوں کے زرئعے جادو کرنا


ہندو مذہب میں جادو کرنا اس کی رسم میں شامل ہے۔جادو کرنے کے لیے سفید مرغی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ہندؤں کا ماننا ہے کے روح اور جن بھوت سفید مرغی سے ڈرتے ہیں۔اس عمل میں مرغی کو کاٹا جاتا ہے اس۔ کے ٹکرے کر کے عامل کے گھر پھلا دیے جاتے ہیں ۔اور جو جادو کرواتا ہے اس پر جنتر منتر پڑھ کر کے شطانی اثر ختم کیا جاتا ہے۔

لڑکیوں کو مارنا


بھارت میں پیدا ہوتے ہی لڑکیوں کو مار دیا جاتا ہے۔لڑکیوں کی نسل کشی میں بھارت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔لڑکوں کو زندہ رکھا جاتا ہے جبکہ لڑکیوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔اس رسم پر سو سال سے پابندی ہے مگر کوئی فائدہ نہیں ہے۔

زبان کو چیرنا


یہ انوکھی رسم چند ہندو میلوں میں کی جاتی ہے۔یہ رسم وہ لوگ انجام دیتے ہیں جن کو شادی کی خواھش ہوتی ہے۔اس میں زبان کو چھیدا جاتا ہے۔اس کام کے لیے لمبی تیز سوئی کو استعمال کیا جاتا ہے۔



یہ بھی پڑھیں 

دنیا کے چھوٹے ممالک کی فہرست 



اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان میں پائے جانے والے معدنیات کی تفصیل۔

معدنیات   پاکستان میں مدنی وسائل کی ترقی کیلئے س1975 میں معدنی ترقیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا ۔معدنیات کو دھاتی اور غیر دھاتی معدینات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دھاتی معدنیات میں شامل ہیں  لوہا تانبا کرومائیٹ پاکستان کی غیر دھاتی معدنیات میں شامل ہیں معدنی تیل قدرتی گیس خوردنی نمک چونے کا پتھر سنگ مرمر چپسم ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ معدنی تیل انسان کے لیے معدنی تیل اور اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی معاشی اہمیت صنعتوں میں استعمال ہونے والی تمام معدنیات سے بڑھ چکی ہے ۔مدنی تیل کی اہم مصنوعات میں گیسولین، ڈیزل ،موبل آئل، موم اور کول تار اور مٹی کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے بعد تیل کی تلاش کے کام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوار کا علاقہ معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم خطہ ہے۔ اس علاقے کے معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم سطح ہے اس کے علاقے میں معدنی تیل کے کنوئیں بلکسر ،کھوڑ ،ڈھلیاں ،جویا میر، منوا...

قائد اعظم کے مشہور چودہ نکات

قائد اعظم کے چودہ نکات   نہرو رپورٹ کے رد عمل میں قائد اعظم نے اپنے 14 نکات جاری کئے آئندہ ہندوستان میں ان 14 نکات کو مسلم سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ نہرر پورٹ کو من و عن منظور کر کے ہندو کا غلام بننا چاہتا تھا انہوں نے جولائی 1929 ء میں آل انڈیا مسلم نیشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ مختار انصاری اس کے پہلے صدر بنے یہ پارٹی قیام پاکستان تک کانگرس کی طفیلی اور ضمنی جماعت کی حیثیت سے کام کرتی رہی اس جماعت نے دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم کے چودہ نکات پس منظر شروع میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن 1928 ء کی نہرو رپورٹ نے آپ کو بہت مایوس کیا تو ادھر یہی حال مولانا محمد علی جوہر کا تھا اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں منقسم تھی ۔ ایک جناح لیگ اور دوسری شفیع لیگ ۔ نہرو رپورٹ کے رو عمل میں دونوں بیلیں متحد ہو گئیں اور متحدہ مسلم لیگ کا اجلاس 31 مارچ 1929 ء کو دہلی میں ہوا اس اجلاس میں قائداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ 1 وفاقی آئین کا نفاز قائد اعظم محمّد علی جناح اس نکات کے مطابق ہن...

حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ  حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں ۔آپ کا تعلق حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خاندان میں سے تھا تو یہ اسرائیلی نبی تھے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر 28 سال۔ ہوئی تو اللہ نے انھیں نبوت عطا کی۔ قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بیان کیا ہے۔قرآن پاک میں 6 سورتوں میں آپ علی السلام کا ذکر آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو قرآن نے زوالنون اور صاحب الحوت کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔صاحب الحوت سے مراد مچھلی والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق میں بھیجا گیا ۔یہاں کے لوگ کافر تھے اس قوم کا مرکز نینوی میں تھا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں ھدایت ہکا پیغام دیا اور واحد اللہ کی عبادت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور بتوں کی پوجا کرتے رہے اپنے کفر پر قائم رہے۔پھر انہوں نے یونس علیہ السلام پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام ان کے مخالفانہ رویہ سے مایوس ہو گے اور ان سے ناراض ہو کر تین دن میں عذاب الہی کی بددعا دے دی ۔ پھر وہ دن آنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم کے بغیر اس علاقہ کو۔ چھوڑ کر وہاں سے نکل ...