نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وٹامنز کیا ہوتے ہیں؟ وٹامن کو حاصل کرنے کے زریعے اور اس کی کمی سے ہونی والی بیماریاں


وٹامنز 




وٹامنز ایسے کمپاؤنڈ ہیں جن کی جسم کو قلیل مقدر میں ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ نارمل گروتھ اور مٹابولزم کے لیے لازمی ہے۔ان کے دو بڑے گروپس چکنائیوں میں حل پزیر یعنی فیٹ سولیبل وٹامنز اور پانی میں حل پزیر یعنی واٹر سولیبل وٹامنز ہیں۔
انسانی جسم کی نارمل گروتھ کے لیے پروٹینز ، کاربوہائیeڈریٹس اور فیٹس کے علاوہ کچھ دوسرے گروتھ فیکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ان دوسرے فیکٹرز کو وٹامن کہتے ہیں۔مثلا وٹامن A ،وٹامن C وغیرہ ۔

سب سے پہلے 1912 میں ہاپکنز نے ان دروتھ فیکٹرز کا آئیڈیا پیش کیا تھا ۔بعد میں فنک نے انھیں وٹامن کا نام دیا۔فنک نے وٹامن B1 تھائی مین دریافت کیا۔

واٹر سولیبل وٹامنز

واٹر سولیبل وٹامن وانی میں سولیبل ہوتے ہیں۔ان
وٹامنز میں وٹامن B کمپلکس اور وٹامن C وغیرہ شامل ہیں۔اگر جسم میں ان وٹامنز کی کمی ہوجائے تو مختلف بیماریاں ہوسکتی ہیں۔اگر واٹر سولیبل وٹامن کو بہت زیادہ مقدر میں استعمال کیا جائے تو یہ بہت جلدی جسم سے خارج ہو جائے ہیں اس سے کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی ہے۔

فیٹ سولیبل وٹامنز

فیٹ سولیبل وٹامن فیٹ میں حل ہوتے ہیں۔ان وٹامنز
میں وٹامن A ، وٹامن D ، وٹامن E ، اور وٹامن K شامل ہیں۔ان وٹامنز کی کمی سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔مثلا اگر وٹامن D جسم میں جمع ہوجائے تو ہڈیوں کا درد شروع ہوجاتا ہے اور گردے میں پتھریاں بن جاتی ہیں ۔

وٹامن A

وٹامن A وہ پہلا وٹامن تھا جس کی شناخت ہوئی۔یہ وٹامن انکھ کے ریٹینا کے راڈ سیلز میں ایک پروٹین آپسن کے ساتھ ملتا ہے اور روڈپسن بناتا ہے۔
وٹامن A کی کمی سے روڈپسن کام ہو جاتے ہیں اور کام روشنی میں نظر آنا مشکل ہوجاتا ہے۔یہ سیلز کے مخصوص بن جانے کے عمل یعنی ڈفرینسی اشن میں بھی حصہ لیتا ہے۔یہ وہ عمل ہے جس میں ایمبر یانک سیلز مخصوص افعال سر انجام دیتے ہیں۔یہ وٹامن جسم کے دفاعی افعال اور ہڈیوں کے گروتھ میں مدد دیتا ہے۔

سورس

ڈیری پروڈکٹس ، انڈے ، آئلز اور فیٹس ،مچھلی یہ سبز سبزیوں میں پائے جانے والے بیٹا کروٹین ، گاجروں اور جگر سے حاصل کیا جاتا ہے۔

وٹامن A کا استعمال

وٹامن A ایپی تھیلیم کو ٹھیک کرتا ہے اور آنکھ کے ریٹینا کی اندھیرے میں تصرف کرنے کے عمل کو بہتر بناتا ہے ۔

وٹامن A کی کمی سے ہونے والی بیماری

نایٹ بلائنڈنس اور آنکھوں کی جلن اس کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں ہیں۔

وٹامن D

وٹامن کا سب سے اہم کام خون میں کیلشیم اور فاسفورس کی مقدر کو کنٹرول کرنا ہے ۔
وٹامن D ان منرلز کا انٹسٹائن سے انجذاب اور ہڈیوں میں جمع ہونے کو بڑھاتا ہے۔

سورس


 مچھلی کا جگر ، ڈیری پروڈکٹس ، آئلز اور فیٹس سے حاصل کیا جاتا ہے۔وٹامن D کو ہماری جلد بھی بناتی ہے جب سورج کی روشنی جلد پر پڑتی ہے
تو وٹامن D بنتا ہے۔

وٹامن D کا استعمال

وٹامن D کیلسیم کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

وٹامن D کی کمی سے ہونی والی بیماری

اس کی وجہ سے رکٹس کی بیماری ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے گروتھ رک جاتی ہے۔

فیٹ سولیبل وٹامن

سورس


وٹامن A انڈوں ، مچھلی ، آئلز فیٹس اور ڈیری پروڈکٹس میں پایا جاتا ہے۔یہ جگر ، گاجر اور سبز سبزیوں سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

وٹامن C وٹامن B وٹامن B کمپلیکس


وٹامن C وٹامن B1 وٹامن B کمپلیکس واٹر سولیبل وٹامنز ہیں۔

وٹامن C کو اسکارب ایسڈز کہتے ہیں۔
وٹامن B1 کو تھائی مین کہتے ہیں۔اسے فنک نے دریافت کیا تھا۔
وٹامن B کمپلیکس 10 وٹامنز کا مجموعہ ہے۔

وٹامن C

وٹامن C بہت سے ری ایکشنز میں حصہ لیتا ہے۔یہ ایک ریشہ دار پروٹین یعنی کولیجن کے بنانے کے لیے ضروری ہے۔کولیجن کنیکٹو ٹیشوز کو مظبوطی دیتا ہے۔زخموں کو بھرنے کے لیے بھی کولیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔وائٹ بلڈ سیلز میں وٹامن C جسم کے امیون سسٹم کے لیے ضروری ہے۔

سورس

وٹامن C کو ترش پھلوں مثلا مالٹا ، چکوترے اور لیموں ، پتوں والی سبزیوں ، گائے کے جگر وغیرہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔


وٹامن C کی کمی سے ہونے والی بیماریاں

اس کی کمی سے سارے جسم میں کنیکٹو ٹشوز میں تبدیلیاں آتی ہیں۔اس کی کمی کی وجہ سے ایک بیماری سکری ہوتی ہے۔

وٹامنز کی اہمیت

  • وٹامن ہمارے جسم کی صحت مند گروتھ کے لیے بہت ضروری ہیں۔
  • قدرتی وٹامنز ہماری نارمل گروتھ کے لیے ضروری ہیں۔
  • قدرتی وٹامن ہمارا جسم نہیں بنا سکتا ۔یہ صرف پودوں اور جانوروں میں پایا جاتا ہے اس لیے یہ ڈائریکٹ فوڈ میں یا فوڈ ڈسپلیمنٹ کے زریعے استعمال ہوتے ہیں۔
  • وٹامنز ہمارے جسم میں مٹابولزم کو ریگولر بناتے ہیں ۔وٹامن کو کھانے کے ساتھ استعمال کرنا چاہے کیوں کے خوراک ہضم کیے بغیر وٹامن ہمارے جسم کا حصہ نہیں بن سکتے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان میں پائے جانے والے معدنیات کی تفصیل۔

معدنیات   پاکستان میں مدنی وسائل کی ترقی کیلئے س1975 میں معدنی ترقیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا ۔معدنیات کو دھاتی اور غیر دھاتی معدینات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دھاتی معدنیات میں شامل ہیں  لوہا تانبا کرومائیٹ پاکستان کی غیر دھاتی معدنیات میں شامل ہیں معدنی تیل قدرتی گیس خوردنی نمک چونے کا پتھر سنگ مرمر چپسم ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ معدنی تیل انسان کے لیے معدنی تیل اور اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی معاشی اہمیت صنعتوں میں استعمال ہونے والی تمام معدنیات سے بڑھ چکی ہے ۔مدنی تیل کی اہم مصنوعات میں گیسولین، ڈیزل ،موبل آئل، موم اور کول تار اور مٹی کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے بعد تیل کی تلاش کے کام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوار کا علاقہ معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم خطہ ہے۔ اس علاقے کے معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم سطح ہے اس کے علاقے میں معدنی تیل کے کنوئیں بلکسر ،کھوڑ ،ڈھلیاں ،جویا میر، منوا...

قائد اعظم کے مشہور چودہ نکات

قائد اعظم کے چودہ نکات   نہرو رپورٹ کے رد عمل میں قائد اعظم نے اپنے 14 نکات جاری کئے آئندہ ہندوستان میں ان 14 نکات کو مسلم سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ نہرر پورٹ کو من و عن منظور کر کے ہندو کا غلام بننا چاہتا تھا انہوں نے جولائی 1929 ء میں آل انڈیا مسلم نیشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ مختار انصاری اس کے پہلے صدر بنے یہ پارٹی قیام پاکستان تک کانگرس کی طفیلی اور ضمنی جماعت کی حیثیت سے کام کرتی رہی اس جماعت نے دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم کے چودہ نکات پس منظر شروع میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن 1928 ء کی نہرو رپورٹ نے آپ کو بہت مایوس کیا تو ادھر یہی حال مولانا محمد علی جوہر کا تھا اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں منقسم تھی ۔ ایک جناح لیگ اور دوسری شفیع لیگ ۔ نہرو رپورٹ کے رو عمل میں دونوں بیلیں متحد ہو گئیں اور متحدہ مسلم لیگ کا اجلاس 31 مارچ 1929 ء کو دہلی میں ہوا اس اجلاس میں قائداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ 1 وفاقی آئین کا نفاز قائد اعظم محمّد علی جناح اس نکات کے مطابق ہن...

حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ  حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں ۔آپ کا تعلق حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خاندان میں سے تھا تو یہ اسرائیلی نبی تھے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر 28 سال۔ ہوئی تو اللہ نے انھیں نبوت عطا کی۔ قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بیان کیا ہے۔قرآن پاک میں 6 سورتوں میں آپ علی السلام کا ذکر آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو قرآن نے زوالنون اور صاحب الحوت کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔صاحب الحوت سے مراد مچھلی والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق میں بھیجا گیا ۔یہاں کے لوگ کافر تھے اس قوم کا مرکز نینوی میں تھا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں ھدایت ہکا پیغام دیا اور واحد اللہ کی عبادت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور بتوں کی پوجا کرتے رہے اپنے کفر پر قائم رہے۔پھر انہوں نے یونس علیہ السلام پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام ان کے مخالفانہ رویہ سے مایوس ہو گے اور ان سے ناراض ہو کر تین دن میں عذاب الہی کی بددعا دے دی ۔ پھر وہ دن آنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم کے بغیر اس علاقہ کو۔ چھوڑ کر وہاں سے نکل ...