نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آئینے کے ساتھ منسلک کچھ عجیب، پرآسرار اور چونکا دینے والی باتیں


آئینے سے وابستہ کچھ چونکا دینے والی پرآسرار اور حیرت انگیز باتیں



آج آئینے کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے۔یہ پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔آئینہ ہر گھر میں موجود ہے.ہم آج کل آئینے کو زیادہ تر اپنی شکل دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر ماضی سے ہی آئینے کے حوالے سے کچھ عجیب اور 
پرآسرار باتیں جڑی ہوئی ہیں۔
آئینہ 
ماضی میں آئینے کو منہ دیکھنے کے علاوہ مختلف مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔جسے سن کر آپ حیرت میں آجائیں گے۔



آئینوں کے ایسے ہی چھ عجیب و غریب اور پراسرار استعمال جن میں سے بعض آپ کو حیرت زدہ کر دیں گے۔
ماضی میں لوگ آئینے کی کس طرح طرح سے استعمال کرتے تھے فہرست پڑھئے 

آئینے کے زریعے مستقبل کی پیش گوئی کرنا


تیسری صدی سے بھی بہت پہلے یونان میں جادوگروں اور جادوگرنیاں آئینے کے زریعے مستقبل۔ بتاتے تھے۔یہ آئینے کو خون سے لت کر دیتے تھے جس سے لوگوں کو ان کی قسمت کے بارے میں بتاتے تھے۔
روم میں بھی لوگ آئینے کے زریعے لوگوں کو ان کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں پیس گوئی کرتے تھے ۔

آئینہ دو دنیا کا راستہ 

پرانے زمانے میں تانبے کو ایک ہیتھور نام کی ایک دیوی سے منسلک کیا جاتا تھا۔اس زمانے کے لوگ اس دیوی کو حسن، محبّت اور جادو کی دیوی سمجھتے تھے ۔اس لیے لوگ تانبے کو پالش کر کے ہی آئینہ بناتے تھے۔اور یہ سمجھتے تھے کے آئینہ اس دنیا اور دیوی کی دنیا میں پل کا کام کرتا ہے۔
اسی ترح ایزٹک تہذیب میں ایک سیاہ پتھر کو ایک دیوتا سے منسوب کیا جاتا تھا جس کا نام۔ تیزکاٹلیپوکا تھا۔ان کا خیال تھا کے یہ دیوتا رات اور وقت کا دیوتا تھا۔اسی لیے یہ لوگ بھی اس دیوتا سے منسوب پتھر سے آئینہ بناتے تھے اور آئینے کو دو دنیا کا رابطہ قرار دیتے تھے۔

آئینے سے وابستہ اچھا اور برا شگون


بہت سے توہمات آئینے کے حوالے سے آج کے دور میں بھی مشھور ہیں جس سے آپ لوگ خوب واقف ہوں گے۔
مثال کے طور پر آئینے سے وابستہ یہ توہمت بھی ہے کے اگر آئینہ گر کر ٹوٹ جائے تو اس کو بدقسمتی اور منحوسی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ توہمت رومنوں نے بنائی تھی اور سمجھتے تھے کے ان آئینوں میں انسان کی روح قید ہوتی ہیں اور اس روح کو دوسری دنیا میں جانا نصیب نہیں ہوتا۔اس لیے یہ خیال کرتے تھے کہ اگر آئینہ ٹوٹ جائے تو یہ قید روح باہر آجاتی ہے اور یہ بہت برا شگون ہے۔
لیکن کچھ جگہ آئینے کے ٹوٹنے کو اس کے برعکس سمجھا جاتا ہے۔مثلا کے اگر آئینہ ٹوٹ جائے تو یہ خوش قسمتی ہے اور اچھا شگون ہے۔یہ توہمت پاکستان میں بھی مشھور ہے۔
اسی طرح جو لوگ اسٹیج پر پروفارم کرتے ہیں وہ یہ سوچ رکھتے ہیں کے اگر پروفارمنس سے پہلے اگر وہ آئینہ دیکھ رہے ہیں اور کوئی پیچھے سے آئے اور اس کا عکس آئینہ میں نظر آجائے تو اس سے ان کی پروفارمنس خراب ہو جاتی ہے۔

آئینے پر جنوں اور بھوتوں کا سایہ


کچھ بہت پرانی اقوام یہ سمجھتے تھے کے آئینہ پر روح کا سایہ ہے۔وہ لوگ آئینوں کی روشنی کے زریعے اپنے گھروں کو روشن رکھتے تھے اور اس ان کا عقیدہ تھا کے آئینے کی روشنی سے بدروح ، چڑیلیں ، اور جن بھوت دور رہتے ہیں۔

اسی طرح آئینے کے بارے میں اور بہت سے باتیں مشھور تھی۔جیسے چائنا میں یہ بات مہشور ہے ایک بادشاہ اپنے آئینے کے زریعے لوگوں کے اندر جھانک کر ان کے بارے میں 
بتاتا تھا۔


اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

پاکستان میں پائے جانے والے معدنیات کی تفصیل۔

معدنیات   پاکستان میں مدنی وسائل کی ترقی کیلئے س1975 میں معدنی ترقیاتی کارپوریشن کا قیام عمل میں آیا ۔معدنیات کو دھاتی اور غیر دھاتی معدینات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پاکستان میں دھاتی معدنیات میں شامل ہیں  لوہا تانبا کرومائیٹ پاکستان کی غیر دھاتی معدنیات میں شامل ہیں معدنی تیل قدرتی گیس خوردنی نمک چونے کا پتھر سنگ مرمر چپسم ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ معدنی تیل انسان کے لیے معدنی تیل اور اور اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی معاشی اہمیت صنعتوں میں استعمال ہونے والی تمام معدنیات سے بڑھ چکی ہے ۔مدنی تیل کی اہم مصنوعات میں گیسولین، ڈیزل ،موبل آئل، موم اور کول تار اور مٹی کا تیل وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے بعد تیل کی تلاش کے کام میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان میں سطح مرتفع پوٹھوار کا علاقہ معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم خطہ ہے۔ اس علاقے کے معدنی تیل کی پیداوار کا قدیم سطح ہے اس کے علاقے میں معدنی تیل کے کنوئیں بلکسر ،کھوڑ ،ڈھلیاں ،جویا میر، منوا...

قائد اعظم کے مشہور چودہ نکات

قائد اعظم کے چودہ نکات   نہرو رپورٹ کے رد عمل میں قائد اعظم نے اپنے 14 نکات جاری کئے آئندہ ہندوستان میں ان 14 نکات کو مسلم سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مسلمانوں کا ایک گروہ نہرر پورٹ کو من و عن منظور کر کے ہندو کا غلام بننا چاہتا تھا انہوں نے جولائی 1929 ء میں آل انڈیا مسلم نیشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ مختار انصاری اس کے پہلے صدر بنے یہ پارٹی قیام پاکستان تک کانگرس کی طفیلی اور ضمنی جماعت کی حیثیت سے کام کرتی رہی اس جماعت نے دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کی سخت مخالفت کی۔ قائد اعظم کے چودہ نکات پس منظر شروع میں قائد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے زبردست حامی تھے لیکن 1928 ء کی نہرو رپورٹ نے آپ کو بہت مایوس کیا تو ادھر یہی حال مولانا محمد علی جوہر کا تھا اس وقت مسلم لیگ دو حصوں میں منقسم تھی ۔ ایک جناح لیگ اور دوسری شفیع لیگ ۔ نہرو رپورٹ کے رو عمل میں دونوں بیلیں متحد ہو گئیں اور متحدہ مسلم لیگ کا اجلاس 31 مارچ 1929 ء کو دہلی میں ہوا اس اجلاس میں قائداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ 1 وفاقی آئین کا نفاز قائد اعظم محمّد علی جناح اس نکات کے مطابق ہن...

حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام  کا واقعہ  حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں ۔آپ کا تعلق حضرت ابراھیم علیہ السلام کے خاندان میں سے تھا تو یہ اسرائیلی نبی تھے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر 28 سال۔ ہوئی تو اللہ نے انھیں نبوت عطا کی۔ قرآن کریم نے حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بیان کیا ہے۔قرآن پاک میں 6 سورتوں میں آپ علی السلام کا ذکر آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو قرآن نے زوالنون اور صاحب الحوت کے ناموں سے پکارا گیا ہے۔صاحب الحوت سے مراد مچھلی والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو عراق میں بھیجا گیا ۔یہاں کے لوگ کافر تھے اس قوم کا مرکز نینوی میں تھا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں ھدایت ہکا پیغام دیا اور واحد اللہ کی عبادت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے اللہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور بتوں کی پوجا کرتے رہے اپنے کفر پر قائم رہے۔پھر انہوں نے یونس علیہ السلام پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔حضرت یونس علیہ السلام ان کے مخالفانہ رویہ سے مایوس ہو گے اور ان سے ناراض ہو کر تین دن میں عذاب الہی کی بددعا دے دی ۔ پھر وہ دن آنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم کے بغیر اس علاقہ کو۔ چھوڑ کر وہاں سے نکل ...